خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 30

دے۔یہ ایک درجہ فضیلت تھی آنحضرت میں یا ایک کو دوسرے انبیاء پر۔پھر فرمایا۔یہی نہیں کہ تجھ سے جو آکر مانگے تو اسے دینے سے انکار نہ کرے بلکہ تو لوگوں کے پاس خود جا اور جاکر اعلان کر کہ خدا نے مجھے یہ نعمت دی ہے آؤ تم بھی اس سے حصہ لے لو۔یہ دوسری فضیلت ہے جو آپ کو تمام انبیاء" پر دی گئی ہے۔پہلے تمام انبیاء تو اس درجہ پر تھے کہ جب کوئی سائل ان کے پاس آتا تو کہتے کہ ہم تمہیں کچھ نہیں دے سکتے کیونکہ جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ صرف اپنی ہی قوم کے لئے ہے۔لیکن آنحضرت م ل ل ل ا ل لیول کو وہ خزانہ دیا گیا کہ آپ کو نہ صرف یہ فرمایا گیا۔کہ جب کوئی تمہارے پاس مانگنے کے لئے آئے تم اسے نہ دھتکار و۔بلکہ یہ کہا گیا کہ محتاجوں کو گھر جا کر دو۔تو دنیا کے لئے سب سے بڑی عید کا دن یہ تھا۔پھر بڑی عید کا وہ دن تھا جب کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو مبعوث کر کے تکمیل تبلیغ کا ذمہ اٹھایا۔اور وہ دن آیا جب کہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّه له کا ہونا مقدر تھا۔شریعت اسلام کی تکمیل رسول کریم ملی و یا لیلی کے ذریعہ ہوئی چنانچہ آپ کے آنے پر سب دنیا کو بغیر کسی استثناء کے کہہ دیا گیا کہ اب ایک ایسا نبی مبعوث ہوا ہے جس کے ساتھ بہت ہی وسیع خزانے ہیں تم اس کے پاس آؤ اور جو کچھ چاہتے ہو لو۔آپ نے لوگوں کو اپنی طرف بلانے کے لئے یہ آواز اس زور سے بلند کی جو آخر کار اپنی گونج میں بڑھتے بڑھتے عرش سے ٹکرائی۔اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ کی شکل میں واپس دنیا میں آئی۔چنانچہ اس نے بھی آکر یہی کہا کہ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمُ جَمِيعًا ۰۱۲ - پہلے محدود علاقوں، خاص ملکوں اور خاص قوموں کے لئے رسول آیا کرتے تھے مگر آنحضرت ملک کی طرح حضرت مسیح موعود نے بھی ایسا وسیع دستر خوان بچھایا کہ کسی کو اس پر بیٹھنے سے دھتکارا نہیں بلکہ لوگوں کو ان کے گھروں سے بلا بلا کر کھلایا ہے اس لئے ہر وہ نئی روح جو ہم میں آکر شامل ہوتی ہے ہمارے لئے عید کا باعث ہوتی ہے اور ہر وہ شخص جو مسلمان ہوتا ہے ہماری خوشی کو بڑھاتا ہے ہے۔یہ شریعت کے احکام پر جمع ہونے کی عید ہے اور جب سب لوگ عملی رنگ میں ایک دین پر جمع ہو جائیں گے تو اس کے نتیجہ میں جو عید ہوگی وہ بہت ہی بڑی عید ہوگی اور اس عید کا کرنا خدا تعالیٰ نے ہمارے ہی سپرد کر دیا ہے۔تمام دنیا کی طرف ایک نبی بھیجنا خدا تعالیٰ کا کام تھا تمام دنیا کے لئے مکمل اور پوری شریعت بھیجنا خدا کا کام تھا، پھر تکمیل تبلیغ کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجنا خدا کا