خطبات محمود (جلد 1) — Page 29
۲۹ اجتماع ہو۔پس دنیا میں اگر سب سے بڑی عید ہوئی تو وہی ہوئی جب کہ ایک انسان نے تمام دنیا کو پکار کر کہہ دیا کہ بيَااَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا - ، دنیا نے چھوٹی چھوٹی تو بہت سی عید میں دیکھی تھیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت عید ہوئی تھی ، حضرت داؤد ، حضرت مسیح ، حضرت کرشن ، حضرت را چند ر حضرت زرتشت کے وقت بھی عیدیں ہوئی تھیں۔مگر یہ کوئی تو ہندوستان کی عید تھی ، کوئی مصر کی کوئی ایران کی اس لئے سب سے چھوٹی چھوٹی تھیں لیکن حضرت آدم کی پیدائش سے لیکر دنیا میں اگر کوئی بڑی عید ہوئی ہے تو وہ وہی ہے جب کہ خدا تعالیٰ نے اپنے ایک برگزیدہ انسان کو کہا کہ تم اپنے ذریعہ سارے جہان کو ایک جگہ جمع کرو۔یہی بڑی عید تھی کیونکہ اس میں خدا تعالیٰ نے اپنے خاص کلام کے ساتھ اپنے ایک انسان کی معرفت تمام دنیا کو کہہ دیا کہ اس کے ہاتھ پر سب لوگ جمع ہو جائیں۔" اس میں کسی قوم کسی ملک کسی علاقہ کی شرط نہ رکھی گئی تھی۔خواہ کوئی مصری ہو یا چینی ہو، ہندوستانی ہو یا ایرانی کوئی ہو سب جمع ہو سکتے ہیں۔کیونکہ اب یہ نہیں کہا جائے گا کہ میں اپنے موتی سوروں کے آگے نہیں ڈالتا اور نہ یہ کہا جائے گا کہ میں اپنی روٹی کتوں کے آگے نہیں پھینکتا۔۵، حضرت مسیح کے آنے کے وقت بھی عید ہوئی تھی۔مگر وہ عید صرف ان کی اپنی قوم کے لئے ہی تھی اگر وہ غیروں کو کھانا کھلاتے تو پھر ان کی قوم کیا کھاتی اسی لئے حضرت مسیح نے کہا کہ میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔گویا ان کا آنا صرف بنی اسرائیل کے لئے ہی عید کا موجب تھا۔لیکن رسول کریم ملی کو جو خدا تعالیٰ نے بھیجا تھا تو ایسے خزانوں کے ساتھ بھیجا جن میں سے خواہ کتنا ہی خرچ کیا جائے کوئی کمی نہیں آسکتی۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو کہا ہے کہ تم سے جو مانگے اسی کو نہ دو بلکہ تم خود تمام دنیا کو بلاؤ اور کہو کہ آؤ جس کو جس چیز کی ضرورت ہے میں اسے دوں۔چنانچہ آپ کو فرمایا گیا۔وَاَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثُ۔کہ تیرا کام ہی یہ ہے کہ تو خدا کی نعمتوں کو لوگوں کے سامنے بیان کرے۔پس خدا تعالیٰ نے آنحضرت میں ایم کیو ایم کے دو کام رکھے ہیں۔حضرت مسیح کے پاس تو ایک عورت نے آکر سوال کیا تھا کہ اے خداوند داؤد کے بیٹے ! مجھ پر رحم کر۔تو حضرت مسیح نے جواب میں کہا تھا کہ مناسب نہیں کہ لڑکوں کی روٹی لے کر کتوں کو پھینک دیویں۔۸ مگر آنحضرت میں لال کو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تیرا کام یہ نہیں بلکہ جو سوال کرے اسے ضرور