خطبات محمود (جلد 1) — Page 296
٢٩۶ نہیں تو کیا تم میں سے وہ لوگ پاگل نہیں جو کہتے ہیں کہ یہ شخص ہم کو ہلاکت کی طرف لے جا رہا ہے اور ہم سے ایسی قربانیاں چاہتا ہے جن کی ہم میں برداشت اور طاقت نہیں۔میں تو تم سے کچھ بھی نہیں چاہتا میں تو تم سے صرف محمد رسول اللہ میا ملک کے لئے عید مانگتا ہوں۔تم میں سے کئی عید کے دن مجھے تحفہ دیتے ہیں مگر مجھے ان تحفوں سے کیا فائدہ اور مجھے ان تحفوں سے کیا غرض میری عیدی تو وہی ہے جو محمد رسول الله میلی لیہ کو ملتی ہے اسی عیدی میں میری عید شامل ہے۔اگر محمد رسول الله الا اللہ کا دل خوش ہوتا ہے تو ہمارا دل بھی خوش ہوتا ہے اور اگر ان کا دل خوش نہیں ہوتا تو نہ ہمیں جمع ہونے میں کوئی خوشی ہے اور نہ ہمیں جدا ہونے میں کوئی رنج ہے۔ہمارا ایمان کم سے کم اس عورت کے ایمان کے مطابق تو ہونا چاہئے جس نے احد کی جنگ کے وقت میں جب یہ خبر سنی کہ محمد رسول اللہ لیا اور شہید ہو گئے ہیں تو وہ گھبرا کر مدینہ سے باہر آگئی اور جب ایک سوار نے جو احد کی طرف سے واپس آرہا تھا آگے بڑھ کر اس عورت کو کہا۔اے بہن! تیرا خاوند مارا گیا ہے تو اس نے کہا مجھے یہ بتاؤ محمد رسول اللہ میر کا کیا حال ہے؟ چونکہ اس کو معلوم تھا کہ آپ خیریت سے ہیں اس لئے وہ اس عورت کے قلب کی کیفیت کو نہ سمجھ سکا اور اس نے بجائے اس کے سوال کا جواب دینے کے اسے یہ کہا کہ اے بہن ! مجھے افسوس ہے کہ تیرا باپ بھی مارا گیا ہے۔اس عورت نے پھر آگے سے یہی جواب دیا کہ مجھے یہ بتاؤ محمد رسول اللہ میں لی لی لی کا کیا حال ہے ؟ تب بھی اس شخص نے اس حقیقت کو نہ سمجھا اور کہا اے بہن! مجھے افسوس ہے کہ تیرے دونوں بھائی بھی مارے گئے ہیں تب اس عورت نے جنجھلا کر کہا انے شخص تجھے کیا ہو گیا ہے میں تجھ سے محمد رسول اللہ میم کی خبر پوچھتی ہوں اور تو میرے رشتہ داروں کی خبریں مجھے بتا رہا ہے۔اس نے کہا بہن وہ تو اچھی طرح ہیں۔تب اس عورت نے کہا اگر محمد رسول اللہ میں کی خیریت سے ہیں تو مجھے نہیں پروا کہ کون مارا گیا اور کون نہیں مارا گیا۔17۔یہی وہ ایمان ہے جو سچی خوشی دکھاتا ہے اور یہی وہ ایمان ہے جو کچی عید دکھاتا ہے۔غور تو کرو کہ اس عورت کا باپ مارا گیا، اس کے بھائی مارے گئے ، اس کا خاوند مارا گیا مگر اس کے دل میں ماتم کی صف نہیں بچھی بلکہ اس کے دل میں عید منائی جا رہی تھی اور اس کا دل پکار پکار کر کہہ رہا تھا میرا محمد خیریت سے ہے میرا محمد خیریت سے ہے۔یہ وہ ایمان ہے جو کچی عید میں لاتا ہے ، یہ وہ ایمان ہے جس کے بعد خدا تعالیٰ اس بات کا ضامن ہو جاتا ہے کہ اس شخص کے لئے عید ہی عید آئے اور اس کے رنج بھی خوشیاں بن