خطبات محمود (جلد 1) — Page 232
۲۳۲ اور کچھ دوسرے دوستوں سے بطور تحفہ وصول کیا جائے صدقہ بالکل نہ ہو۔اور باہم برادرانہ تعلق کے لئے میں نے یہ تجویز کی کہ دوسرے لوگ بھی اس میں شامل ہوں مگر قیمت دے کر یعنی کھانا تو انہیں لنگر سے دیا جائے لیکن اس کی قیمت ان سے لے لی جائے۔اس میں میرے مد نظریہ بھی خیال تھا کہ باہر کے لوگ تو آکر لنگر سے کھانا کھاتے ہیں مگر قادیان کے لوگ نہیں کھاتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک شعر ہے واللہ بچو کشتی نوحم ز کردگار بے دولت آنکه دور بماند زلنگرم ۱۷ میں نے خیال کیا کہ اس رنگ میں کچھ رقم داخل کر کے قادیان کے لوگ بھی لنگر سے کھانا حاصل کر سکیں گے۔آخر وہ ہمارے ہی روپیہ سے چلتا ہے دوسرے بھی چندہ کے طور پر رقوم دید میں اور اس طرح وہ اس دعوت میں بھی شریک ہو جائیں اور اس لنگر سے کھانا کھا کر اس کے وعید سے بھی بچ جائیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لنگر سے دور رہنے والوں نے کے متعلق ہے اور اس طرح غرباء کو کھانا کھلانے کی ذمہ داری بھی کم سے کم ایک دن کے لئے سلسلہ پر آجائے۔پھر چونکہ دوسرے بھی اس میں شریک ہوں گے اس لئے تحفہ بھی ہو جائے گا جو کہ ایک نظام کے ماتحت ساری جماعت میں تقسیم کر دیا جائے گا۔اسی طرح میرا خیال ہے کہ عید الا ضحی کے موقع پر یہ انتظام کیا جائے کہ جہاں تک ہو سکے دوست کو شش کریں کہ پہلے ہی روز قربانی کی جائے اور پہلے بتادیں کہ وہ کتنا گوشت مجموعی انتظام میں دیں گے۔پھر اسے انتظام کے ماتحت ہر گھر میں پہنچا دیا جائے۔میری تجویز یہ ہے کہ ہم اس طرح مشتر کہ عید منایا کریں۔اس کے ماتحت آج جو دعوت ہوگی اس میں کچھ بطور تحفہ نہ کہ صدقہ دے کر صاحب استطاعت دوست شریک ہو سکتے ہیں اور کچھ بیت المال سے ڈال کر تمام غرباء اور ان میں دوسرے دوستوں کے گھروں میں جو قیمت دے کر شامل ہوں کھانا پہنچا دیا جائے گا۔میری تجویز یہ ہے کہ اس انتظام کو بڑھا کر ایسی شکل میں لایا جائے کہ ایک وقت ایسا آ جائے جبکہ تمام دوستوں کی دعوت ہو جائے اور اس طرح سب مل کر اکٹھے کھانا کھایا کریں۔قرعہ اندازی کے ذریعہ کچھ یوں بھی ایک جگہ جمع ہو کر اکٹھے کھالیا کریں اور اس طرح اکٹھے بیٹھ کر کھانے کی رسم بھی پوری ہو جائے اور اس سے یہ بھی فائدہ ہو گا کہ ہماری عید مجموعی عید ہوا کرے گی۔اس کے بعد میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالٰی ہمیں توفیق دے کہ ہماری عیدیں بچی عیدیں