خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 220

۲۲۰ عام آدمیوں کے متعلق ہو جاتا ہے کہ جب بادشاہ کی طرف سے دعوت ہوتی ہے تو بعض کو گھر پر بلا کر کھلایا جاتا ہے اور بعض کے ہاں کھانا بھیج دیا جاتا ہے۔حضرت سید عبد القادر اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تو گھر بلا کر کھلایا گیا اور کچھ عام طور پر تقسیم کر دیا گیا جو آج ہر احمدی کے گھر میں پکا ہے۔پس عید کا مقام یہ ہے کہ کھانا پینا بھی اللہ تعالیٰ کے لئے ہو جائے اور یہی اصل عید ہے اسے حاصل کرو مگر یہ حاصل ہوتی روزوں سے ہے گویا تکلیف پانے سے ملتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جب گورداسپور میں مقدمہ دائر تھا اس وقت روپیہ کی تنگی تھی ۲۷ اخراجات بڑھ گئے تھے اس وقت اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے ماتحت بعض لوگوں کو تحریک کی گئی اور جنہیں تحریک کی گئی ان میں سے ایک ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب ۲۸ بھی تھے اس موقع پر ان کے گھر میں جو کچھ تھا انہوں نے جمع کر کے سب بھیجوا دیا اور لکھ دیا کہ آئندہ بھی جو آمدنی ہوگی وہ بھیجتا رہوں گا۔چنانچہ تنخواہ اور پریکٹس سے جو کچھ انہیں ملتا اسے بھیج دیتے۔ایک دوست نے جو ان دنوں ان کے مہمان تھے سنایا کہ میں نے کہا :۔سب کچھ وہاں بھیج دیتے ہیں اپنے لئے کیوں کچھ نہیں رکھتے۔انہوں نے جواب دیا کہ ہاں اب وقت ایسا ہی ہے۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو ایک چٹھی لکھی جو میں نے خود پڑھی ہے اس میں آپ نے لکھا آپ نے قربانی کی حد کر دی آب آپ کو چندہ دینے کی ضرورت نہیں۔۲۹، حالانکہ آپ نے فرمایا ہے جو تین ماہ چندہ نہ دے وہ جماعت میں نہیں رہا سکتا۔۳۰ یہ چٹھی اب بھی شاید خلیفہ صاحب مرحوم کے گھر میں ہو۔وہ اس کے بعد بھی چندہ دیتے تھے اور انہیں دینا چاہئے تھا کیونکہ پہلے وہ فرض ادا کرتے تھے اور بعد میں شکریہ کے طور پر دیتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالی کی وحی کے ماتحت جو کتاب لکھی۔اس میں ہمیں وصیت سے مستثنیٰ کیا ہے۔۳۱ میرے دل میں ہمیشہ ایک خلش سی رہتی تھی کہ ہمیں قربانی کے ایک موقع سے محروم کر دیا گیا مگر پھر خیال آیا کہ رسول کریم ملی ام اس قدر عبادت کرتے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ، آپ کے پاؤں متورم ہو جاتے۔یہ دیکھ کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا : جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے سب گناہ معاف کر دیئے تو آپ اس قدر تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں۔آپ نے فرمایا اَفَلَا أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا - ۳۲، یعنی کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ایسے مقام پر پہنچ کر فرضا اور وجوباً نہیں تو شکریہ کے طور پر عمل ہونا چاہئے۔چنانچہ اس کے بعد میں نے ایسا طریق اختیار کیا کہ میرا