خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 203

۲۰۳ امارت نے جہاں بہت سے فرعون پیدا کر دیئے وہاں فاقہ نے بھی بہت لوگوں کو کافر بنایا۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم لالا لالا اور فرماتے ہیں كَادَ الْفَقْرُانْ يَكُونَ كُفْرًا - ۸، قریب ہے کہ فقر و فاقہ انسان کو کافر بنا دے۔پس یہ دونوں راہیں غلط ہیں اصل راہ وہی ہے جو اللہ تعالٰی کے منشاء کے ماتحت ہو۔خدا اگر فاقہ کے ذریعہ کسی کو اپنے قریب کرنا چاہے تو اس وقت فاقہ اختیار کرنا ہی اصل نیکی ہے اور اگر خدا کسی کو کھانا کھلا کر اپنے قریب کرنا چاہے تو اس وقت کھانا کھانا ہی اللہ تعالیٰ کی رضا کا موجب ہوتا ہے۔رسول کریم ل ل ا ل لا علم کے زمانہ میں ایک دفعہ کثرت سے اموال آئے۔آپ نے انصار سے فرمایا کہ لو میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اموال میں سے دیتا ہوں اس وقت انصار نے کہا یا رسول اللہ یہ سب کچھ مہاجرین کو دیدیں ہمارے پاس جو کچھ ہے وہی کافی ہے۔3 اب بظاہر یہ انصار کی کتنی بڑی قربانی دکھائی دیتی ہے کہ اموال مل رہے ہیں مگر وہ انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے پاس بہت ہے ہمارے دوسرے بھائیوں کو دیدیئے جائیں لیکن خدا کی نگاہ میں یہ قربانی نہ ٹھری۔رسول کریم میں اللہ ہم نے اس وقت انصار کے جواب میں فرمایا میں نے تمہیں خدا کی ایک نعمت دینی چاہی مگر تم نے انکار کیا اب دنیا میں تمہیں کوئی نعمت نہیں مل سکے گی حوض کوثر پر ہی آکر لینا۔"اے چنانچہ دیکھو لو رسول کریم میں یا ای میل کے بعد مسلمانوں کو جب بادشاہت ملی تو کوئی انصاری بادشاہ نہیں ہوا۔تیرہ سو سال کے عرصہ میں مہاجرین بادشاہ بنے۔غلام بادشاہ بنے خادم بادشاہ بنے اسلام کے ذریعہ راجپوت ، پٹھان، مغل، ایرانی طر ابلیسی اور جزائری ہی بادشاہ ہوئے مگر وہ قوم جس کے متعلق آتا ہے کہ اس نے خدا اور اس کے رسول پر ایمان لانے والوں کے لئے اپنے گھر خالی کر دیئے انہیں بادشاہت نصیب نہ ہوئی اس لئے نہیں کہ انہوں نے خدا کے لئے فاقے نہیں کئے تھے بلکہ اس لئے کہ انہوں نے خدا کے لئے کھانا نہیں کھایا تھا۔بے شک خدا نے اس لئے کہ انہوں نے اس نعمت کا انکار گستاخی کی وجہ سے نہیں بلکہ نا سمجھی کی وجہ سے کیا انہیں اجر سے محروم نہیں رکھا اور انہیں حوض کوثر پر انعامات دیئے جانے کا وعدہ دے دیا مگر دنیا میں انہیں کبھی بادشاہت نصیب نہ ہوئی۔غرض کئی اللہ تعالیٰ کے بندے ہماری مجلس میں اس وقت ایسے ہیں جن کے ظاہری جسمی بھی عید منا رہے ہیں اور جن کے دل بھی عید منا رہے ہیں۔انہیں اس وقت اللہ تعالی کے قرب اور اس کی محبت کا مقام حاصل ہے اور گو وہ بظاہر اس جگہ بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں مگر