خطبات محمود (جلد 1) — Page 155
۱۵۵ (12) ( فرموده ۲۴ مارچ ۱۹۲۸ء بمقام باغ حضرت مسیح موعود علیہ السلام - قادیان) رسول کریم یا اور ہم نے عید کے دنوں کے متعلق فرمایا ہے یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔لے اور ایک عید کے متعلق جو موجودہ عید ہے آپ کی سنت تھی کہ گھر سے کچھ کھا کر نماز کے لئے چلتے تھے۔لے اور دوسری عید کے متعلق آپ کی یہ سنت تھی کہ نماز کے بعد قربانی کا گوشت جب تک استعمال کے قابل نہ ہو جاتا آپ پسند نہ کرتے کہ اس وقت تک کچھ کھایا جائے۔۳ کیونکہ قربانی کی خوشی اسی وقت پورے طور پر ہو سکتی ہے جب انسان خود اس کا گوشت استعمال کرے۔وہ روزہ نہیں ہو تا تھا بلکہ قربانی کی خوشی کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے قربانی کا گوشت استعمال کرنے کے لئے وقفہ ہو تا تھا۔بعض لوگ سمجھتے ہیں وہ روزہ ہے مگر روزہ نہیں۔اس وقت تک کھانے سے رُکنا اس لئے نہیں کہ روزہ ہے بلکہ اس لئے ہے کہ اس دن جو خاص کھانا تیار کیا گیا ہے وہ کھایا جائے۔تو عید کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس دن لوگ کھاتے پیتے ہیں اور ساری دنیا میں یہی ہوتا ہے۔جہاں میلے ہوتے ہیں وہاں کھانے پکائے جاتے ہیں۔یورپ میں بھی رواج ہے جیسے بڑا دن ہے۔کہ اس کے لئے خاص کھانے مقرر ہوتے ہیں۔ایک مرنا جسے لڑکی کہا جاتا ہے خصوصیت سے اس دن پکایا جاتا ہے۔یا کرسمس پڈنگ ہوتے ہیں۔خاص قسم کی مٹھائی اور کھانے ہوتے ہیں۔تو ہر ملک میں ایسے موقعوں پر خاص کھانے تیار کئے جاتے ہیں اور یہ عید کی ایک علامت رکھی گئی ہے۔قرآن کریم سے بھی معلوم ہوتا ہے۔کہ بے شک کھانا عید کی علامت ہے مگر اس کے ساتھ ہی یہ بتایا ہے کہ عیدیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ایک عید ناقص ہوتی ہے جو ہمارے اپنے پکائے ہوئے کھانے کھانے سے ہو جاتی ہے لیکن ایک عید کامل ہوتی ہے۔مومن کے لئے ہر چیز میں سبق ہوا کرتا ہے۔اس کے لئے خدا تعالیٰ کی کائنات کھلی ہوئی کتاب ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کی پہلی سورۃ کا نام فاتحہ رکھا گیا ہے۔اس سے اس طرف اشارہ ہے کہ مومن کے لئے ہر بات کھلی ہوئی ہے۔کئی لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ه