خطبات محمود (جلد 1) — Page 156
۱۵۶ مرزا صاحب اچھے آئے کہ طاعون پڑنے لگ گئی فلاں عذاب آگیا۔آج کی مکھیوں سے بھی ایک نکتہ معلوم ہوتا ہے۔کہ یہ مکھیاں جو شہد لاتی ہیں ان کو خدا نے ڈنگ بھی دیا ہے اور شہد کو خدا تعالیٰ نے اپنے کلام سے تشبیہ دی ہے ، اس لئے نبی بھی شہد لاتے ہیں۔جب کہ خدا تعالیٰ نے شہد کی مکھیوں کو ڈنگ دیا ہے تو انبیاء کو کیوں نہیں دے گا۔شہد کی ایک بوتل قرآن کریم کی ایک آیت سے کوئی نسبت نہیں رکھتی۔جب اس کے لئے خدا تعالیٰ نے حفاظت کا سامان کیا ہے تو کیا وجہ ہے کہ نبی کے لائے ہوئے کلام کے لئے نہ ہو۔نبی کی بعثت پر دنیا میں تباہیاں اور بربادیاں اسی لئے آتی ہیں کہ جو لوگ نبی کو برباد کرنا چاہتے ہیں ان کے شر سے محفوظ رکھا جائے۔میں نے بتایا تھا کہ کھانے پینے کے دن عید کہلاتے ہیں مگر قرآن کریم نے بتایا ہے کہ حقیقی عید یہ نہیں جو کھانے پینے سے منائی جاتی ہے۔حقیقی عید وہ ہے جو سورۃ مائدہ میں بیان ہوئی ہے۔خدا تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کی زبان سے یہ دعا نازل فرمائی ہے۔قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا اَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيد الاَوَّلِنَا وَاخِرِنَا وَآيَةً مِنْكَ وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرَّزِقِينَ - و عیسی ابن مریم نے کہا۔اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے مائدہ نازل کرتا کہ ہمارے پہلوں کے لئے بھی اور پچھلوں کے لئے بھی عید ہو۔اس سے حضرت عیسی علیہ السلام کی یہ مراد نہیں کہ میری جماعت کے پہلوں کے لئے بھی عید ہو اور آخری لوگوں کے لئے بھی اور درمیانی لوگ مصیبت میں رہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا۔کون کہتا ہے کہ میرا بڑا بیٹا بھی آرام میں رہے اور چھوٹا بھی لیکن درمیانہ دکھ میں رہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ دعا کی ہے کہ میری پہلی بعثت میں بھی عید ہو اور جب دوسری بعثت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رنگ میں ہو اس وقت بھی عید ہو۔پس انہوں نے عید الا ولِنَا میں اپنی امت کے لئے اور اخِرِنَا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی امت کے لئے دعا مانگی تھی۔چونکہ انہوں نے اپنی قوم کے لئے جو دعا مانگی تھی اس سے مراد یہ تھی کہ ایسے سامان ہوں جن سے اس کی دولت بڑھ جائے آرام و آسائش کے سامان حاصل ہو جائیں اس لئے خدا تعالٰی نے کہا کہ اگر قدر نہ کرد گے تو عذاب بھی نازل ہو گا۔اے مگر ہمارے لئے عذاب کا خطرہ نہیں ہے کیونکہ اس دعا میں ہم