خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 130

١٣٠ زبر دست خدا تعالیٰ پر ایمان لائے اس کے وعدوں پر بھروسہ رکھے اور پھر مایوس ہو۔پس جو جماعت خدا تعالی کے فرستادہ نے کھڑی کی ہو اس کے افراد کا فرض ہے اور اولین فرض ہے کہ ایک منٹ کیلئے بھی مایوسی کو اپنے پاس نہ آنے دیں۔ان کے دل میں خوف ہو۔وہ چوکس ہوں۔انہیں یقین ہو کہ شیطان ان پر حملہ کرے گا کیونکہ وہی اس کے حقیقی دشمن ہیں اور حملہ ہمیشہ دشمن پر ہی کیا جاتا ہے۔کیا اگر بچے لکڑیاں لئے پھر رہے ہوں ان میں سے کوئی جرنیل کوئی کرنیل کوئی میجر بن جائے تو لوگ دروازے بند کر لیں گے نہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ تماشہ ہے۔اسی طرح جب لڑکے شیر شیر کر کے کھیلتے ہیں تو کیا لوگ اپنے جانوروں کو مکانوں میں بند کر لیتے ہیں۔نہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ منہ کا شیر ہے۔لیکن اگر سچ سچ کا شیر آجائے تو دیکھو کس طرح اس کے مقابلہ کے لئے کھڑے ہو جائیں۔پس دنیا میں اگر کسی جماعت کے لئے شیطان کے حملہ کا خوف ہے تو وہ خدا کے فرستادہ کی جماعت ہے۔اللہ کے نبیوں، اس کے ماموروں اور اس کے مرسلوں کی جماعت ہے۔کیونکہ یہ سچ سچ کے شیر ہوتے ہیں۔شیر قالین نہیں ہوتے اور چونکہ وہ لوگ جو بہیمیت کی صفت رکھتے ہیں وہ ڈرتے ہیں کہ انہیں یہ شیر کھینچ کر لے جائیں گے اور وہ جانتے ہیں کہ یہ بچی فوج ہے اس لئے سارا زور ان کے خلاف لگاتے ہیں تاکہ اسے توڑ دیں۔اس وجہ سے سب سے زیادہ خوف کی وجہ اگر موجود ہوتی ہے تو اسی جماعت کے لئے جسے خدا نے کھڑا کیا ہو۔لیکن باوجود اس خوف کے مومنین کی جماعت میں مایوسی کبھی نہیں آسکتی کیونکہ ایمان اور مایوسی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔میں یہ نہیں کہتا کہ مومن کو کوئی غم نہیں ہو تا مگر میں یہ کہتا ہوں کہ مومن کو کوئی ایسا غم نہیں ہو تا جو اسے مایوس اور افسردہ بنا دے۔وہ غم میں بھی لذت محسوس کرتا ہے اور ایسی لذت محسوس کرتا ہے کہ کسی خوشی کے لئے اسے چھوڑنے کے واسطے تیار نہیں ہو سکتا۔کیا ایک باپ جو اس فکر اور غم میں ہو کہ اس کا بچہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر لے اسے کوئی کہے کہ اس فکر کو اپنے دل سے نکال دو اور اس غم کے بوجھ سے اپنے دل کو ہلکا کر لو تو وہ اس کے لئے تیار ہو گا۔کوئی باپ اس بات کو پسند نہیں کرے گا کیونکہ اس کلفت اور فکر میں ہی اس کے لئے ایسی لذت رکھی گئی ہے جو خوشیوں سے بڑھ کر ہے۔غرض مومن کا غم بھی ایسا غم ہوتا ہے اور اس میں ایسی لذت اور ایسا سرور ہوتا ہے کہ وہ اس غم کو بھی چھوڑنا پسند نہیں کرتا۔وہ غم ہوتا ہے اور اتنا بڑا غم ہوتا ہے کہ قریب ہے غمگین کی کمر توڑے دے مگر