خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 129

۱۲۹ پر پورا بھروسہ نہیں رکھتی وہ کامیاب نہیں ہوا کرتی۔وہ قوم جو اپنے دل میں اپنی ناکامی یا موت کا فیصلہ کر لیتی ہے وہ ظاہر میں کبھی غالب نہیں ہو سکتی خواہ وہ کتنی ہی بہادر ، کتنی ہی جری اور کتنی ہی زبر دست کیوں نہ ہو۔برخلاف اس کے وہ قوم جو اپنے دل میں فیصلہ کر لیتی ہے کہ مجھے دنیا میں غالب ہونا ہے وہ ضرور غالب ہو کر رہتی ہے خواہ بظاہر کتنی ہی کمزور ، کتنی ہی قلیل اور کتنی ہی ادبی حالت میں ہو۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے بار بار اس طرح توجہ دلائی ہے کہ ہمارا ایمان خوف اور رجاء کے درمیان ہو۔وہ یعنی ایک طرف اگر ہمیں ہر وقت یہ امید ہو کہ ہم دنیا میں غالب ہو کر رہیں گے تو دوسری طرف خوف بھی ہو۔مگر یہ خوف امید کو کاٹنے والا نہیں ہو تا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو رجاء کے ساتھ جمع نہ ہو سکتا کیونکہ متناقض جمع نہیں ہو سکتے۔جو چیز دوسری کو کاٹ دیتی ہے ان دونوں کو اگر جمع کیا جائے تو دونوں تباہ ہو جاتی ہیں۔اگر کسی شخص کے پاس ایک روپیہ ہے اور اس نے ایک روپیہ کسی کا دیتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ اس کے پاس کچھ نہیں ہے۔اسی طرح اگر ایک ہی درجہ کا خوف اور ایک ہی درجہ کی امید ایمان کے لئے ہوتی تو اس کا یہ مطلب ہوتا کہ کچھ نہ ہوتا۔اس لئے جب یہ کہا جاتا ہے کہ ایمان خوف اور رجاء کے درمیان ہو تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ یہاں وہ خوف مراد ہے جو رجاء کے مطابق ہے۔خوف دو قسم کا ہے ایک وہ جو امید کے خلاف ہے یہ جتنا بڑھتا جاتا ہے امید ملتی جاتی ہے۔لیکن دوسرا خوف رجاء کا مؤید ہوتا ہے۔یعنی یہ کہ ایسا نہ ہو ہم یہ کام نہ کر سکیں۔یہ خوف ہمت اور جوش پیدا کرتا ہے اور اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ ہم نہیں جیتیں گے بلکہ یہ ہوتے ہیں کہ ایسانہ ہو ہماری کسی کمزوری کی وجہ سے کامیابی میں نقص آ جائے۔اور جب امید حوصلہ کو بلند کرتی ہے، قربانیوں پر آمادہ کرتی ہے اور آگے قدم بڑھانے کی ہمت دلاتی ہے تو یہ خوف شرور کے دروازے بند کرنے اور فتنوں کے دبانے کی طرف متوجہ کرتا ہے اور انسان کے اندر ایسی ہوشیاری پیدا کر دیتا ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے کوئی چور اس کے اندر داخل نہیں ہو سکتا جب کسی قوم کی ایسی حالت ہو تو وہ ضرور کامیاب ہو جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم میں اور یہی ہمیشہ مایوسی کو نہایت نا پسند کرتے تھے۔کہ اور قرآن کریم نے اسے کفر قرار دیا ہے۔چنانچہ آتا ہے۔لَا تَايْنَسُوا مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِنَّهُ لَا يَا يْنَسُ مِنْ رَّوْحِ اللهِ اِلَّا القَوْمُ الكَفِرُونَ ، مایوس ہونا کافروں کا کام ہے کیونکہ مایوسی کسی وقت ایمان کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی۔اور جو مایوس ہوا وہ کافر ہو گیا کیونکہ ہو نہیں سکتا کہ ایک