خطبات محمود (جلد 1) — Page 102
۱۰۲ نہ کھڑا کر دو۔مجھے ایک قصہ یاد کر کے ہمیشہ لذت حاصل ہوتی ہے۔ایک دفعہ ترکوں اور یونانیوں میں جنگ ہوئی۔یونانیوں کا ایک قلعہ تھا جو پہاڑی پر واقع تھا اور بہت مضبوط تھا۔یورپ والوں کا خیال تھا کہ ترک اس کو جلدی فتح نہیں کر سکتے اور اتنے میں ہم بیچ بچاؤ کر کے صلح کرا دیں گے۔گو ترکوں کے جرنیل عموماً خائن ہوتے رہے ہیں مگر بعض اعلیٰ درجہ کے بھی ہوتے تھے۔چنانچہ ایک ترکی فوج کا کمانڈر جس کو اپنے وطن اور قوم کی عزت کا احساس تھا اس نے اپنے تھوڑے سے سپاہیوں کو جو اس کے ماتحت تھے جمع کیا اور ایک تقریر کی جس میں بُزدلی سے نفرت دلائی اور نیک نامی سے مرنے کی فضیلت بدنامی سے جینے پر ثابت کی اور پھر بڑے زور سے حملہ کیا۔چونکہ انہوں نے نیچے سے اوپر چڑھنا تھا اور دشمن سر پر تھا اس لئے وہ آسانی سے ان کو نقصان پہنچا سکتا تھا اور ترک اس کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔بہت دفعہ حملہ کیا گیا مگر اوپر نہ چڑھ سکے۔آخر اس جرنیل کو ایک گولی لگی اور وہ گر پڑا۔دشمنوں نے خوشی کا نعرہ لگایا کیونکہ انہوں نے سمجھا اب ترکوں کو شکست ہو جائے گی لیکن دراصل جرنیل کو گولی لگنا ترکوں کی شکست کی علامت نہ تھی بلکہ اس میں ان کی فتح تھی۔جب جرنیل گر پڑا اور لوگ اسے میدان جنگ سے اٹھا کر علیحدہ جگہ میں لے جانے لگے تاکہ اس کی مرہم پٹی کریں تو اس نے اپنے ماتحتوں کو جن سے وہ بہت محبت کرتا تھا اور وہ بھی اسے اپنا محبوب سمجھتے تھے کہا کہ تمہیں خدا کی قسم ہے میرے جسم کو ہاتھ مت لگاؤ۔اگر تمہیں مجھ سے محبت ہے اور میری اس آخری گھڑی میں مجھ اظہارِ الفت کرنا چاہتے ہو تو اس کا صرف یہی طریق ہے کہ میری قبر اس قلعہ میں بناؤ۔اگر یہ نہیں کر سکتے تو مجھے نہیں پڑا رہنے دو کہ میری لاش کو کوے اور کتے کھا جائیں۔جرنیل کے اس قول نے سپاہیوں کو دیوانہ بنا دیا اور انہوں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور اس زور کا حملہ کیا کہ قلعہ پر چڑھ کر قبضہ کر لیا اور اس جدوجہد میں ان کے ناخن تک اُڑ گئے اور یورپ حیران رہ گیا جب یہ خبر شائع ہوئی کہ یونان کا فلاں قلعہ ترکوں نے فتح کر لیا۔اسی طرح ایک عورت کا قصہ انگریزی ریڈروں میں طلباء نے پڑھا ہو گا کہ ایک عورت کے بچے کو عقاب اٹھا کر ایک پہاڑ پر لے گیا۔عورت بھی اس کے پیچھے گئی اور پہاڑ پر چڑھ کر عقاب کے گھونسلے تک پہنچ گئی اور اپنے بچے کو نکال لائی۔جب اس نے اپنے بچے کو سینہ سے لگایا اور خوش ہو چکی تو اسے ہوش آیا اور پھر اس کے لئے پہاڑ سے اترنا مشکل ہو گیا۔لوگوں