خطبات محمود (جلد 1) — Page 103
۱۰۳ نے بمشکل اسے اتارا۔اس سے پوچھا کہ تو کیونکر چڑھ گئی تھی۔اس نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں کیسے چڑھی تھی۔میں تو صرف یہ دیکھ رہی تھی کہ میرے بچے کو عقاب ادھر لے گیا ہے اور اُدھر ہی خود جا رہی تھی۔دیکھو ایک عورت نے اس بچے کی تلاش میں وہ کام کیا جو بڑے بڑے مرد بھی نہیں کر سکتے تھے۔پس تم بتاؤ کہ تمہیں خدا کے دین سے اس سے زیادہ محبت نہیں ہونی چاہئے جو عورت کو اپنے بچے سے یا ترک سپاہیوں کو اس جرنیل سے تھی۔کیا تم دیکھتے نہیں کہ رسول کریم میں لیا لیلی کا جسم مبارک اعتراضوں سے زخمی کیا گیا ہے۔اسلام مُردہ کی مانند ہے اور زخموں سے چور ہے۔خدا تعالیٰ کا جسم بھی مثالی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ چور چور ہے۔کیا تم اس نظارے کو برداشت کر سکتے ہو کہ خدا اور رسول کریم میں لیا ہے اور اسلام کا جسم اعتراضوں کے زخموں سے چور ہو اور تم آرام سے بیٹھے رہو۔کیا تمہیں خدا اسلام اور رسول کریم ملی دیوی کی محبت میں دیوانہ نہیں ہونا چاہئے؟ پس تم ایک دیوانگی پیدا کرو اور بد عقیدگی پر حملہ کرو اور دنیا کو اس نقطہ بلاؤ کہ دنیا کو خدا اور اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعود علیہ ! قابل ستائش نظر آئیں۔اللہ تعالیٰ تمام نقصوں سے پاک ہے مگر اس پر طرح طرح کے نقص لگائے جاتے ہیں۔تم ان تقصوں کو دور کرو۔اور اس احساس کے ساتھ کھڑے ہو کہ سب لوگوں کو ایک دین پر جمع کر دیں گے اور تمام مسکینوں اور محتاجوں کو اور تمام ڈوبتے ہوؤں کو بچائیں گے اور اپنی ہر ایک راحت اور آرام کو اس راہ میں قربان کر دیں گے اب میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے دوبارہ کھڑے ہو کر فرمایا :۔السلام دعا میں یہ یاد رکھو میں نے پہلے بھی نصیحت کی ہے کہ دعا کی قبولیت کے لئے بعض شرائط ہیں اور کچھ سامان ہیں۔ایک تو یہ ہے کہ خدا تعالی کی حمد کی جائے سورۃ فاتحہ پڑھی جائے ، نبی کریم مسلم پر درود پڑھا جائے۔۳۶ میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ آپ دعا کرنے سے پہلے دل میں سورہ فاتحہ پڑھیں اور پھر درود پڑھیں۔اس ذریعہ سے جو دعا کی جائے گی اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمائے گا۔اور ساتھ ہی نیت اور ارادہ بھی کریں۔اگر نیت اور ارادہ نہ ہو گا تو آپ لوگوں کی دعائیں زبانی ہوں گی جو عرش پر نہیں پہنچیں گی اور جن میں نیت اور ارادہ شامل ہو گا وہ خدا کے فضل کو کھینچ لائیں گی۔