خطبات محمود (جلد 1) — Page 94
۹۴ پس وہ شخص جس نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کی اس کے لئے تو آج خوشی ہے مگر جس نے احکام الہی کی پیروی نہیں کی اس کے لئے ماتم ہے کیونکہ یہ حساب کا دن ہے۔لوگ جمع ہیں ہر ایک شخص کا لباس اور اس کی حالت بتا رہی ہے کہ وہ حساب دینے کے لئے حاضر ہے اور آج یوم الحساب ہے اور اس حالت نے حشر کا نظارہ پیدا کر دیا ہے۔پس وہ شخص جس نے کچھ کام نہیں کیا اور احکام کو نہیں مانا اس کے لئے رونے کا دن ہے نہ کہ خوش ہونے کا اور جس نے ان احکام کو پورا کیا ہے میں تمہیں کہتا ہوں کہ اسی کی عید آج حقیقی عید ہے اور اس کی خوشی کچی خوشی ہے۔یاد رکھو کہ عید میں روحانی ترقی کے ذرائع ہیں اور اس میں روحانی ترقی کے لئے مشق کرائی جاتی ہے۔جو لوگ سارے سال میں تہجد نہیں پڑھ سکتے وہ کم از کم رمضان میں تہجد ضرور پڑھتے ہیں اور ان کا رمضان کے ایک مہینہ میں تہجد پڑھنا گواہی ہو جاتا ہے ان کے خلاف کہ تہجد پڑھنا مشکل کام نہیں۔جو لوگ راتوں کو تہجد کے لئے اس لئے نہیں اٹھتے کہ وہ اٹھ نہیں سکتے اور جو لوگ سردی کی چودہ چودہ گھنٹے کی راتیں بستروں میں گزار دیتے ہیں اور اٹھ کر تجد نہیں پڑھتے خدا کے مجرم ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے عمل سے بتا دیا ہے کہ وہ گرمی کی آٹھ آٹھ گھنٹے کی راتوں میں جب مہینہ بھر اٹھتے رہے ہیں تو چودہ گھنٹے کی رات میں کیوں نہیں اٹھ سکتے۔کیا وہ شخص جو آٹھ گھنٹے کی رات میں سحری کے لئے اٹھتا ہے اور ساتھ ہی تجد بھی پڑھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں پندرہ گھنٹہ کی رات میں نہیں اٹھ سکتا۔اگر تم نہیں اٹھ سکتے تھے تو آٹھ گھنٹہ کی رات میں کیسے اٹھے۔پس اس طرح تم اللہ تعالی کے حضور اقراری مجرم ہو گئے۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ رمضان اور عید سے سبق حاصل کرو۔میں نے اسی لئے گل ہدایت کی تھی کہ پہلے کی طرح آج کی رات بھی اٹھو، تہجد پڑھو اور دعائیں کرو ، کیونکہ ہمارے بزرگوں کا طریق تھا کہ جب کوئی نیک کام کرتے تھے تو پھر دوبارہ شروع کر دیتے تھے تا سلسلہ نہ ٹوٹے۔لوگ عموماً عید کی رات کو زیادہ سوتے ہیں حالانکہ اس رات میں زیادہ جاگنے کی ضرورت ہوتی ہے۔حضرت خلیفہ اول کا قاعدہ تھا کہ آپ جب قرآن کریم ختم کرتے تو خاتمہ کے ساتھ پھر سورۃ فاتحہ پڑھتے تا کہ قرآن کریم کا سلسلہ پھر شروع ہو جائے۔اسی طرح جب رمضان ختم ہو گیا اور شوال شروع ہوا تو میں نے چاہا کہ رمضان کے بعد شوال کے پہلے دن لوگوں کو کھڑا کر دوں تاکہ دوسرا باب شروع ہو جائے اور نیکی کا سلسلہ ٹوٹ نہ جائے۔