خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 95

۹۵ ہے۔پس چونکہ آپ لوگ رمضان کے تمیں دن کے علاوہ ایک دن شوال کا بھی جاگے ہو اور یہ گل اکتیس دن ہو گئے۔اب بقیہ گیارہ مہینوں میں رات کو اٹھنا تمہارے لئے کیا مشکل ہے سوائے بیماری کے جس میں نماز کے فرائض بھی جمع کرنے کی اجازت ہے اور کوئی مجبوری نہیں۔پس چونکہ تہجد کا پڑھنا خدا کے قرب کے حصول کے لئے بہت بڑا مددگار رسول کریم میں اللہ نے ایک صحابی کے متعلق فرمایا کہ فلاں شخص بہت اچھا ہے بشرطیکہ رات کو اٹھے۔کہ اس لئے اس سلسلہ کو جاری رکھو اور رمضان میں جو کام تم نے شروع کیا ہے اسے ختم نہ ہونے دو۔ی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جب کہ دوسروں میں نماز پڑھنے والے بھی زیادہ نہیں ہم میں تہجد پڑھنے والوں کی معقول تعداد ہے۔اور تجد خدا کے فضلوں میں سے ایک فضل ہے اور قرآن کریم میں اس کا ذکر ہے۔اور اس کو اَشَدُّوا واقْوَمُ قِيلاً ف کیا گیا ہے۔یعنی تجد نفس کی اصلاح کے لئے ایک بہترین آلہ ہے اور اس سے تمام اعمال درست ہوتے ہیں۔اور انسان کے اندر یہ طبعی تقاضا ہے کہ خوبی کی طرف دوڑتا اور خوبصورت چیز کو پسند کرتا ہے۔اگر تم جنگل میں جاؤ اور وہاں پھولوں کو دیکھو تو ان کو پسند کرو گے اور ان کی طرف دوڑو گے۔پھر خدا نے تمہاری ہدایت کا جو باغ لگایا اور تمہاری روحانیت کی ترقی کے لئے اس میں پھول پھل لگائے پھر کیونکر ممکن ہے کہ تم اس کی طرف نہ دو ڑو۔تو آپ لوگوں میں اکثر نے روزے رکھے اور اس مہینہ میں اکثر وقت عبادت میں گزارا۔اس کا لطف اٹھایا اور خدا تعالیٰ جو تمام حسینوں سے زیادہ حسین اور تمام خوبصورتیوں کا خالق ہے اس کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کی۔اب میں آپ کو ہدایت کرتا ہوں کہ آپ میں سے جن کو عادت نہیں تھی وہ بقیہ گیارہ مہینے کے لئے بھی تہجد پڑھنے کی نیت کر لیں۔اگر کبھی نہ اٹھ سکیں تو کچھ حرج نہیں مگر نیت ضرور کریں پھر اللہ تعالیٰ ان کو توفیق دے گا۔دوسرا سبق اس میں یہ ہے کہ بہت سے لوگ چھوٹی چھوٹی تکلیف سے ڈرتے ہیں ایسے لوگوں نے مہینہ بھر کے روزے رکھے اور تکلیف برداشت کی ہے۔جس سے ثابت ہوا کہ وہ بھوک کی تکلیف برداشت کر سکتے ہیں اور شدید گرمی میں جب کہ دم بہ دم ہونٹ خشک ہوتے ہیں روزہ داروں نے پیاس کی تکلیف برداشت کی ہے اس سے ظاہر ہے کہ وہ پیاس کی تکلیف بھی برداشت کر سکتے ہیں اور جب کہ گرمی کی چھوٹی رات میں اٹھ سکتے ہیں تو سردی کی لمبی