خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 88

AA کے وقت کھانا نہ کھانے سے والدین کو میری نسبت اور شک بڑھ گیا اور انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تو دن کے وقت کھانا کیوں نہیں کھاتا اس طرح مسلمان دن کے وقت کھانا نہیں کھایا کرتے۔سارے گھر کے لوگ جمع تھے کہ اُس وقت مجھ سے سوال ہوا اور پھر پوچھا گیا کہ کیا تو مسلمان ہے؟ وہ لکھتا ہے کہ یہ سوال تھا جس کے پوچھے جانے کا میں منتظر تھا۔جس وقت انہوں نے پوچھا میں نے صاف کہدیا کہ ہاں میں مسلمان ہوں۔میرا یہ کہنا تھا کہ تمام گھر کی حالت بدل گئی اور جوش و خروش شروع ہو گیا۔اُس وقت میرا بڑا بھائی گھر میں تھا اس نے کھانا چھوڑ کر مجھے مارنا شروع کیا اور اتنا مارا اور اتنا مارا کہ مجھے بے حال کر دیا مگر نہ میں نے بھائی کے مقابلہ میں ہاتھ اُٹھایا نہ زبان سے کچھ کہا وہ مارتا رہا اور میں مار کھاتا رہا۔آخر جب وہ خود ہی مارتے مارتے تھک گیا۔تو مجھ سے الگ ہوا اور میں خاموش تھا۔بھائی کی اس سختی اور میری اس حالت نے ایک اور حالت گھر کی بنادی۔وہ لوگ جو ایک دم پہلے جوش اور غصہ میں تھے سب رو پڑے اور والد جس کو میں نے کبھی روتے نہ دیکھا تھا وہ بھی بے اختیار رو پڑا اور والد والدہ اور دوسرے عزیزوں نے میرے پیر پکڑ لئے اور کہا کہ تو مسلمان رہ مگر ظاہر نہ ہو اس میں ہماری ہتک ہے۔مار کھانا میرے لئے آسان تھا مگر اس نظارے کے لئے میں تیار نہ تھا اس لئے میں بھی کانپنے لگ گیا لیکن میرے دل میں یہ بات پڑی کہ یہ بھی میری آزمائش ہے اور میں نے اس حال میں خدا سے دعا کی کہ خدایا ! مجھے اس امتحان میں ثابت قدم رکھ۔اس نازک وقت میں میرا قدم حق سے پھل نہ جائے۔دعا کے بعد مجھ میں ایک قوت آگئی اور میں نے شرک کی مذمت اور اسلام کی خوبیوں اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر تقریر کی اور بتایا کہ میں کیوں مسلمان ہوا ہوں اور میں نے اس کے بعد بتایا کہ اے میرے باپ! میری جگہ دوزخ میں تم نہیں جاؤ گے اور نہ میں تمہاری جگہ جاؤں گا یہ جو کچھ میں نے کیا ہے حق ہے ہر ایک شخص کو اپنا معاملہ آپ صاف کرنا ہو گا۔9 میں دنیاوی معاملات میں آپ کا فرمانبردار ہوں۔مگر دین کے بارے میں آپ کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں۔میری تقریر سے ان کی نفرت میں اور زیادتی ہو گئی اور میری حالت ایک قیدی کی مانند ہو گئی۔میں نے والدین سے اجازت چاہی کہ میں عشاء کے بعد باہر تھوڑی دیر کے لئے ٹھروں تو وہ مجھ کو اجازت نہیں دیتے۔اور رشتہ دار آتے ہیں اور مجھے اسلام چھوڑنے کے لئے کہتے ہیں کہ باپ کا کہنا مانو کہ باپ کا درجہ خدا کے درجہ سے بڑھا ہوا ہے اور ہر ایک کو مجھ سے حقارت بڑھ رہی ہے مگر میرا دل مطمئن ہے۔سوچو کہ آج عید کا دن