خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 89

۸۹ ہے مگر یہ اس کے لئے کس قدر ابتلاء کا دن ہو گا۔لیکن یہ حالت ایک قلب کی نہیں ہزاروں لاکھوں قلوب ہیں جن کی یہ حالت ہے۔ان کے لئے عید کیا خوشی کا موجب ہو سکتی ہے۔بہت ہیں جو اپنی احمدیت کا اظہار کریں تو ان کے رشتہ دار ان کا خون بہا دیں۔یہ حالت کیوں ہے؟ اس لئے کہ ابھی تک تمام دنیا نے مسیح موعود علیہ السلام کی قدر کو نہیں پہچانا اور لوگ آپ کی مخالفت کر رہے ہیں۔غور کرو۔وہ بچہ جس کے ماں باپ مخالف ہیں اور وہ مسیح موعود کو قبول کرتا ہے۔اگر ان کے سامنے کہتا ہے تو لوگ جان کے دشمن ہوتے ہیں ورنہ ہر طرح اس کو گلے سے لگانے کو تیار ہیں۔ان کی کیا حالت ہے اور عید ان کو کہاں تک خوشی پہنچا سکتی ہے۔ہمارے لئے مکمل عید اور پوری خوشی کا دن وہ ہو گا جس دن تمام دنیا میں سے کوئی شخص ہم سے جدا نہیں رہے گا۔پس اس کے لئے کوشش کرو اور پوری جدوجہد سے کام لو تاکہ ہمارے لئے حقیقی عید کا دن آئے۔یاد رکھو کہ زمانہ ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔حالات میں تغیرات آتے رہتے ہیں۔یہ خدا کا فضل تھا کہ آج بولنے کی توفیق مل گئی۔ورنہ اب جو گلے کی حالت رہتی ہے اس کو دیکھتے ہوئے بولنا ایک ڈور کی امید نظر آتا ہے۔تحریر بھی کم ہو سکتی ہے بوجہ نظر کی کمزوری کے۔پس ہمیشہ ایسے دن نہیں رہا کرتے نہ ایسے حالات رہتے ہیں جن سے انسان سبق سیکھ سکے۔نہ سمجھانے والے ہی ہمیشہ رہا کرتے ہیں۔آج کل دنیا کی جو حالت ہے کہیں جنگیں ہیں، کہیں بیماریاں ہیں، کہیں قحط یہ سب حالات دنیا کے سمجھانے کے لئے ہیں مگر یہ حالات ہمیشہ نہیں رہا کرتے۔آج کل ان حالات کی ایک رو چلی ہے اس سے فائدہ اٹھاؤ غفلت چھوڑ دو اور دل میں فیصلہ کرو کہ ہم تبلیغ میں نہ ست ہوں گے نہ ہٹیں گے جب تک ایک شخص بھی ہم سے بچھڑا ہوا ہے۔ہم تمام پچھڑے ہوئے بھائیوں کو جمع کریں گے تب خوش ہوں گے۔اور یہ بھی فیصلہ کرو کہ اگر ہم اس کام میں مر جائیں تو اپنی اولاد کو وصیت اسی کام کے کرنے کی کریں گے۔اپنے آپ کو ایک قیمتی اور کار آمد وجود بناؤ۔بیت الخلاء کی اینٹ نہ بنو۔اپنے آپ کو ستون کی اینٹ بناؤ۔ایک ہو جاؤ ، متحد کوشش کرو۔اُس وقت تک اس کوشش میں لگے رہو جب تک کہ دنیا میں ایک بھی کافر ہے۔جب دوسرے خطبے کے لئے کھڑے ہوئے۔تو فرمایا۔