خطبات محمود (جلد 1) — Page 56
۵۶ آپ لوگوں کو عطا کر دیا ہے۔اب ضرورت ہے تو اس بات کی کہ آپ لوگ ڈٹ کر ان کا صحیح استعمال کریں اور نہ ہیں جب تک کہ منزل مقصود تک نہ پہنچ جائیں۔انسان کو کامیابی کے واسطے دو ہی سامانوں کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ایک ہتھیار دوسری قوت بازو۔ہتھیار خدا نے آپ کو دے دیئے ہیں جو ایسے تیز اور کاری ہیں کہ ان کی نظیر کسی دوسرے مذہب میں نہیں اور نہ کوئی ہتھیار ان کا مقابلہ کر سکتا ہے اب ضروت ہے کہ آپ لوگ دلوں کو مضبوط کر کے قوت بازو سے کام لیں۔نہ کوئی خالی ہتھیار دنیا میں کام کر سکتا ہے اور نہ صرف قوتِ بازو غالب آسکتی ہے۔دونوں چیزیں مل کر کامیابی کا منہ دکھا سکتی ہیں۔ایک چیز دنیا سے مسلمانوں کی غفلت اور بد عملی اور سستی کی وجہ سے اٹھ گئی تھی سو وہ بھی خدا تعالیٰ نے دوبارہ آپ لوگوں کو دیدی ہے اور وہ دلائل و برائین کی تیز تلوار اور تباہ کن توپ ہے۔اب ان کا استعمال کرنا آپ لوگوں کے ذمہ ہے۔دیکھو اگر یہ کام ملائکہ نے ہی کرنا ہوتا اور انسانی محنت اور تبلیغ اور سعی کی ضرورت نہ ہوتی تو پھر آنحضرت ملی اور ملک کے زمانہ میں ضرور ملائکہ اسلام کے دشمنوں کو زیر کرتے پھرتے۔نہ صحابہ کو محنت کرنی پڑتی نہ ملک چھوڑنے پڑتے اور نہ مشکلات اور مصائب برداشت کر کے جائیں تک دینی پڑتیں خود بخود سب کام ملائکہ کے ذریعہ سے ہو جاتے۔مگر نہیں ایسا نہیں ہوا بلکہ آنحضرت کو دن اور رات جان توڑ محنت برداشت کرنی پڑی۔لوگوں سے دکھ اٹھانے پڑے۔صحابہ کی جانیں تک اس راہ میں خرچ ہو ئیں جب جا کر یہ کام ہوا۔پس بعینہ اب بھی اسی طرح ہو گا۔جب تک ہر شخص اس بات کے لئے تیار نہ ہو جائے کہ اسے دین کے لئے اپنی عزت آبرو جان و مال قربان کرنے سے دریغ نہ ہو گا یہ کام انجام کو پہنچے گا۔ضروت ہے ہر احمدی اپنے اس فرض کو سمجھے اور دین کی تبلیغ و اشاعت کے واسطے ہر قسم کی قربانی کو تیار ہو جائے۔کام تو جو مقدر ہوتا ہے ہو کے رہتا ہے مگر افسوس اس شخص کے لئے جو اس خدمت سے بے نصیب رہ جائے اور اس کے جان و مال کا اس میں کوئی حصہ شامل نہ ہو۔اسلام ضرور کامیاب ہو گا اور ہو کر رہے گا یہ مقدر ہو چکا ہے مگر تلوار کے ذریعہ سے نہیں کیونکہ یہ زمانہ تلوار کا نہیں۔آنحضرت ملی لی کے زمانہ میں دنیا نے تلوار سے مقابلہ کیا تھا۔چنانچہ اُس وقت تلوار سے ہی اس کا مقابلہ کیا گیا تھا۔دشمن کو جس چیز پر گھمنڈ تھا اور جس