خطبات محمود (جلد 1) — Page 55
۵۵ لوگوں کے ذریعہ سے حق اور راستی کی چٹان پر جمع ہو جائیں۔اور پھر تمام ادیان اس حقیقی نور اور میر کن پانی کو پینے لگیں جو خدا تعالیٰ نے آنحضرت میم تی وی کی معرفت دنیا کے بچاؤ کے واسطے نازل فرمایا اور جس کے اظہار کے لئے اللہ تعالٰی نے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔حضرت مسیح کی مثال کی طرح یہاں ایک ہی بیٹا کھویا ہوا نہیں ہے بلکہ ہزاروں لاکھوں پیارے بھائی گمشدہ ہیں جن کی تلاش اور راہنمائی آپ لوگوں کے ذمہ ہے۔پس جس وقت آپ لوگ اس مقصد میں کامیاب ہوں گے وہی وقت حقیقی عید اور سچی خوشی کا ہو گا۔نادان ہے جو ہنستا ہے اور بے وقوف ہے وہ جو خوش ہوتا ہے جب تک اپنے اس فرض اور غرض کو نہیں سمجھتا اور پورا نہیں کرتا۔نادان بچہ اپنے باپ کی مرگ کا احساس نہ کر کے ہنستا اور کھیلتا پھرے تو یہ اس کی کم علمی اور جہالت و نادانی ہے۔مُردہ باپ کو غسل دیتے ہوئے لوگوں کو دیکھ کر پرواہ نہ کرے اور بے علمی سے سمجھے کہ میرے باپ کو لوگ مل مل کر نہلا رہے ہیں اور خوش ہو تو یہ اس کی کم فہمی ہے۔باپ کو کفن دیتے ہوئے دیکھ کر اگر وہ خوش ہو اور سمجھے کہ میرے باپ کو نئے کپڑے پہناتے ہیں تو یہ اس کی بے سمجھی ہے۔کیونکہ یہ دراصل اس کے واسطے مصائب کا دروازہ ہے یہ تو اُس بیچارے کے واسطے ماتم کا وقت ہے۔یہ وقت تو در حقیقت اس کے نیم کی ابتدا ہے اور اس کے واسطے مصائب اور مشکلات کا پیش خیمہ ہے۔مگر وہ اپنی کم علمی اور نادانی کی وجہ سے اسے سمجھتا نہیں اور خوشی کر رہا ہے۔تو کیا اس کی یہ خوشی حقیقی خوشی ہو گی؟ پس وہ خوشی جس سے انسان غافل ہو جائے اور اپنے اصلی فرض کو اور اغراض و مقاصد کو بھول جائے وہ خوشی نہیں بلکہ ماتم ہے۔اور اگر خوشی اور عید کو انسان اپنے اغراض و مقاصد کے حصول کا ذریعہ اور محرک سمجھے تو وہ ایک گونہ عید اور خوشی ہو سکتی ہے۔پس یہ عیدیں دراصل حقیقی عید اور سچی خوشی کے حصول کا ایک موقع دیتی ہیں۔اگر آپ لوگ ان کو اصل غرض کے حصول کا ذریعہ و محرک یقین کر کے اس کے حصول میں سعی و کوشش کرنی شروع کر دیں۔یہ وقت ہے کہ آپ لوگ ہر قسم کے دلائل و براہین جو اللہ تعالی نے آپ لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے تازہ بتازہ دیئے ہیں ان کو لے کر اور نشانات سماوی کے ذریعہ سے دنیا پر محبت تمام کر دیں۔نہ ختم ہونے والا گولہ بارود اور ہر ایک دشمن کو مغلوب کرنے والا تو پخانہ حضرت مسیح موعود کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے