خطبات محمود (جلد 1) — Page 489
۴۸۹ کسی حد تک دور ہو گئی تھی اور حافظہ میں چستی پیدا ہو گئی تھی۔۱۹۵۵ء میں یہ تکلیف بہت زیادہ تھی جو سال کے آخر تک بلکہ ۱۹۵۶ء کے شروع تک رہی اس کے بعد مری ایبٹ آباد اور جابہ سے میں کچھ آرام ملا تو اس میں کمی آئی شروع ہو گئی بلکہ قریباً اس کی اصلاح ہی ہو گئی لیکن اس دفعہ پھر بیماریوں کے مجموعہ کی وجہ سے خرابی زیادہ محسوس ہوتی ہے اس لئے میں لبی دیر تک بول نہیں سکتا۔میں دوستوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری عید دراصل وہی ہو سکتی ہے جو محمد رسول اللہ میں اللہ کی عید ہو۔اگر ہم تو عید منائیں لیکن محمد رسول اللہ مل لیل و نہ منائیں تو ہماری عید قطعا عید نہیں کہلا سکتی بلکہ وہ ماتم ہو گا جیسے کسی گھر میں کوئی لاش پڑی ہو ان کا کوئی بڑا آدمی فوت ہو گیا ہو تو لاکھ عید کا چاند نکلے، ان کے لئے عید کا دن ماتم کا ہی دن ہو گا۔اسی طرح ایک مسلمان کے لئے چاہے محمد رسول اللہ میں اللہ کی وفات پر ۳۰۰ سال سے زیادہ عرصہ گذر چکا ہے اگر اس کی عید میں محمد رسول اللہ لی ولی شامل نہیں اور اگر وہ اس ظاہری عید پر مطمئن ہو جاتا ہے تو اس کی عید کسی کام کی نہیں۔بیشک اس دن خدا تعالٰی نے ہمیں خوش ہونے کا حکم دیا ہے اور ہم خوشی منانے پر مجبور ہوتے ہیں لیکن پھر بھی ہمارے دلوں کو چاہئے کہ وہ روتے رہیں کہ ابھی محمد رسول اللہ لی لی لی لی لی اور اسلام کی عید نہیں آئی۔محمد رسول اللہ ملی یم اور اسلام کی عید سویاں کھانے سے نہیں آتی نہ شیر خرما کھانے سے آتی ہے بلکہ ان کی عید قرآن اور اسلام کے پھیلنے سے آتی ہے۔اگر قرآن اور اسلام پھیل جائیں تو ہماری عید میں محمد رسول اللہ ملی بھی شامل ہو جائیں گے اور آپ خوش ہوں گے اگر چہ مجھے فوت ہوئے ۱۳۰۰ سال سے زائد عرصہ گذر چکا ہے لیکن جس مشن کو لے کر میں دنیا میں آیا تھا ابھی تک میری امت نے اسے قائم رکھا ہوا ہے۔پس کوشش یہی کرو کہ اسلام کی اشاعت ہو، قرآن کی اشاعت ہو، تاکہ ہماری عید میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہوں اگر آج کی عید محمد رسول اللہ میل کی بھی عید ہے تو پھر سارے مسلمانوں کی عید ہے لیکن اگر آج کی عید میں محمد رسول اللہ میں شامل نہیں تو پھر آج سارے مسلمانوں کے لئے عید نہیں بلکہ ان کے لئے ماتم کا دن ہے۔پس اس نکتہ کو یاد رکھو بے شک ایک حد تک ہماری جماعت کو تبلیغ اسلام کا موقع ملا ہے مگر ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ چیز ہمارے اندر اس قدر گھر کر گئی ہے کہ ہماری اولادوں میں بھی