خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 471

سنجیدہ انسان ہیں تو انہیں کہو میرے پاس اتنی زمین ہے کہ اگر میں آپ کے ملک میں ہو تا تو وہاں سے نکال دیا جاتا کہ میں کیپیٹلسٹ ہوں لیکن میں سیکنڈ کلاس میں سفر کر رہا ہوں اور تم فرسٹ کلاس اور پھر ایئر کنڈیشنڈ کمپارٹمنٹ میں سفر کر رہے ہو تم کو یہ روپیہ کس نے دیا ہے۔تم مزدور ہو کر اس قدر روپیہ کس طرح خرچ کر سکتے ہو جب کہ میں تمہارے نزدیک کیپیٹلسٹ ہو کر سیکنڈ کلاس میں سفر کر رہا ہوں۔پس یا تو تم یہ ثابت کرو کہ روس کے سب لوگ اتنا خرچ کرتے ہیں اور یا سیدھی بات یہ ہے کہ تم جاسوس ہو اور پراپیگنڈا کی غرض سے یہاں آئے ہو۔ملک صاحب کچھ دیر کے بعد آئے تو انہوں نے بتایا کہ اس نے کہا ہے کہ اب موقع نہیں پھر کسی وقت ملاقات کروں گا۔میں نے کہا اصل میں دال میں کالا ہے اسے روپیہ دے کر یہاں پراپیگنڈا کے لئے بھیجا گیا ہے۔ورنہ اس کے پاس جو رقم ہے وہ اس کی ذاتی نہیں اور نہ ہی وہ کپڑے اس کے اپنے ہیں جو اس نے پہن رکھے ہیں۔برطانیہ کے وزیر اعظم مسٹرلائیڈ جارج ؟ کسی کام کے لئے روس گئے وہ جب واپس آئے تو لوگوں نے ان پر مختلف قسم کے سوالات کئے۔بعض نے کہا روس والوں نے غریب اور امیر کو کس طرح مساوی درجہ دے رکھا ہے کسی نے یہ کہا کہ روسیوں کی حالت اگر خراب ہے تو آپ ان کی کیا مدد کر رہے ہیں۔ایک مجلس میں یہ ذکر ہوا کہ روس کے تمام لوگوں میں کس قدر سادگی پائی جاتی ہے تو مسٹر لائیڈ جارج نے کہا (غالبا اس وقت لینن له بر سر اقتدار تھا کہ لینن کی دعوت کے موقع پر اتنے کھانے پکائے گئے تھے کہ مجھے اپنے ملک میں بھی اتنے کھانے کھانے کا موقع نہیں ملا۔دوسرے موقع پر ان پر یہ سوال کیا گیا کہ روس ایک غریب ملک ہے آپ نے ان کی مدد کے لئے کیا کیا ہے۔تو مسٹر لائیڈ جارج نے کہا میں جب ریل میں سوار ہوا تو میں نے ایک قلی کو دس لاکھ روبل انعام دیا لیکن اس نے حقارت سے اسے پھینک دیا اتنے بڑے امیروں کی ہم کیا مدد کر سکیں گے۔دراصل اس دس لاکھ روبل کی قیمت اس وقت کے لحاظ سے دو چار پیسے تھی۔اب اگر کہ یورپین پر خوش ہو کر اسے دو پیسے انعام دیا جائے تو وہ حقارت کی وجہ سے اسے رد نہ کرے گا تو کیا کرے گا؟ گویا مسٹر لائیڈ جارج نے بظاہر اس کا یہ مفہوم لیا کہ روس میں مزدوروں کی یہ حالت ہے کہ وہاں ایک مزدور دس دس لاکھ روپیہ کے انعام کو بھی ٹھکرا دیتا ہے پھر اتنے مالدار لوگوں کی میں کیا مدد کروں۔مگر مطلب یہ تھا کہ روس پراپیگنڈا تو اپنے ملک کی اچھی حالت کا کرتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے سکے کی کوئی قیمت ہی نہیں رہی۔پس یہ حالات بناوٹی ہیں۔