خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 472

دوسرے ممالک جو سرمایہ دار ہیں ان کی ظاہری حالت اگر چہ اچھی ہے وہ اچھی خوراک کھاتے ہیں اور قیمتی لباس پہنتے ہیں لیکن حقیقی عید انہیں بھی میسر نہیں۔یورپین لوگوں کو ہم عیاش کہتے ہیں لیکن در حقیقت وہ عیاش نہیں۔میں نے خود یورپین لوگوں سے باتیں کی ہیں ان میں روحانیت کی خواہش ایشیائیوں کی نسبت زیادہ ہے لیکن چونکہ امن اور چین انہیں باوجود سرمایہ دار ہونے کے میر نہیں اس لئے وہ اپنا غم غلط کرنے کے لئے ناچ دیکھتے ہیں، شرابیں پیتے ہیں، گانے سنتے ہیں اور دوسری عیاشیوں میں اپنا وقت کاٹتے ہیں۔انہیں کسی طرح بھی چین نصیب نہیں وہ سوتے ہیں تو مصیبت زدہ ہونے کی حالت میں ، جاگتے ہیں تو دُکھ بھرے دلوں کے ساتھ اور چونکہ ان میں روحانیت کی خواہش موجود ہے اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم کالج بنائیں، ہسپتال بنائیں یا رفاہِ عامہ کی دوسری جگہیں بنا ئیں تو ہم پر فرشتے نازل ہوں گے ، ہمیں روحانیت نصیب ہوگی اس لئے وہ ان چیزوں پر اپنا روپیہ خرچ کرتے ہیں لیکن ہو تا کیا ہے وہ ہسپتال بناتے ہیں تو شیطان کا نزول ہونے لگتا ہے وہ سکول بناتے ہیں تو بجائے اس کے کہ ان پر فرشتوں کا نزول ہو شیطان ان کے گھروں میں آبستا ہے گویا ہر حرکت جو وہ روحانیت کے حصول کی خاطر کرتے ہیں ان کی بے ایمانی کے بڑھانے کا موجب ہوتی ہے اور ان کی بے چینی بڑھتی ہے۔پھر انہیں عید کہاں نصیب ہوئی ؟ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کی درخواست پر یہ کہا تھا کہ اے اللہ ! ہم پر مائدہ نازل کیجئے اس میں قسم قسم کے کھانے ہوں اور وہ کھانے آسمانی ہوں، زمینی نہ ہوں۔پھر یہ کھانے ہم پر روزانہ اُتریں تا ہمارے اگلے اور پچھلے لوگوں کے لئے عید ہو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تمہیں تمہاری خواہش کے مطابق مائدہ دیتا ہوں تا تمہاری عید ہو جائے لیکن اس کے بعد بھی اگر کسی نے ناشکری کی تو میں اسے شدید ترین عذاب دوں گا۔للہ اگر وہ کہتے کہ اے اللہ ! ہم چاہتے ہیں کہ صبح و شام تیری رضا ملے تا ہمارے اگلے اور پچھلے لوگوں کے لئے عید ہو تو یہ زیادہ درست ہو تا۔انہوں نے خواہش تو کی روحانیت کی لیکن اس کے حصول کے لئے جو ذرائع طلب کئے وہ سب دنیاوی تھے۔جیسے یورپ کے لوگ خواہش تو روحانیت کے حصول کی کرتے ہیں لیکن اس کے لئے جو ذرائع استعمال کرتے ہیں وہ سب دنیوی ہوتے ہیں۔روپیہ کمانے کے لئے اکثر دفعہ دوسروں کی دولت بھی چھینی پڑتی ہے اور جو دو سروں کی دولت چھینے گا اس کا دل سخت ہو گا اور جس کا دل سخت ہو اسے روحانیت کہاں میسر آتی ہے۔مثلاً ایک غریب آدمی کے پاس تھوڑا سا آٹا تھا اس نے آٹا گوندھا اور ایک