خطبات محمود (جلد 1) — Page 392
۔۳۹۲ رسول کریم میں یا اللہ کے گھر میں جو آٹا پکا کرتا تھا وہ بھی بہت موٹا ہو تا تھا۔جب مدینے میں ہوائی چکیاں لگیں اور میدے کی طرح کا آٹا پسنا شروع ہوا تو حضرت عمر نے حکم دیا کہ پہلا آٹا جو ان کی چکیوں سے پیسا جائے تو وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھجوایا جائے۔چنانچہ رسول کریم الاول کے ادب و احترام کے پیش نظر سب سے پہلا آٹا حضرت عائشہ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔جب وہ آٹا حضرت عائشہ کے گھر میں آیا تو حضرت عائشہ نے اس کے چھلکے پکانے کے لئے کسی خادمہ کو کہا۔اس وقت باریک آٹا مدینہ کے لوگوں کے لئے عجیب چیز تھی ان کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ گندم کے اندر سے اس قسم کا باریک آٹا نکل سکتا ہے۔حضرت عائشہ کے گھر میں مدینہ کی عورتوں کا ہجوم ہو گیا۔عورتیں چھلکوں کو ہاتھوں میں لے کر ٹولتیں اور کہتیں کیسے نرم ہیں۔آج ہمارے زمانہ میں تو باریک آٹا پینے کی بڑی بڑی مشینیں لگ گئی ہیں اس لئے ہم ان باتوں کا پوری طرف قیاس نہیں کر سکتے مگر ان کے لئے یہ نئی بات تھی۔آخر حضرت عائشہ کے کھانے کا وقت آیا۔حضرت عائشہ نے لقمہ توڑا اور منہ میں ڈالا مگر اسے نگل نہ سکیں۔منہ میں ڈالتے ہی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے۔تمام عورتیں حیران تھیں کہ اتنا نرم آتا ہے اور ان کے حلق میں پھنسا ہوا ہے اور اسے نگل نہیں سکتیں۔انہوں نے کہا بی بی ا یہ تو بڑا نرم آتا ہے آپ کے گلے میں کیوں پھنس رہا ہے کیا بات ہے ؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا ہاں گلے میں پھنس رہا ہے اس لئے کہ یہ لقمہ ڈالتے ہی میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ہم رسول کریم میں دی او لیول کو ان کی بڑھاپے کی عمر میں بھی پتھروں پر کوٹ کر آٹا نکال کر دیا۔کرتے تھے حالانکہ بڑھاپے میں انسان کے دانت کمزور ہو جاتے ہیں اور آج یہ ہوائی چکیاں رسول کریم ملی ایم کی پیشگوئیوں اور آپ کی دعاؤں کے نتیجہ میں آئی ہیں۔ہم ان سے پیسے ہوئے باریک آٹے کی روٹیاں کھا رہے مگر رسول کریم میں دل کا دور گزر چکے ہیں اس لئے یہ آتا ہے میرے گلے میں پھنستا ہے اس خیال سے کہ رسول کریم ملی ہی کے طفیل ہمیں یہ نعمتیں ملیں لیکن ان میں ہمارے ساتھ شریک نہیں ہیں۔کہ تو وہی نرم آٹا جس کی حضرت عمرؓ نے قدر کی اور فرمایا کہ پہلا آٹا حضرت عائشہ کو بھیجا جائے ، وہی نرم آٹا جس کی مدینہ کی عورتوں نے قدر کی اور اسے ٹولنے کے لئے اپنے گھروں سے چل کے گئیں ، وہی نرم آنا حضرت عائشہ کے گلے میں پھنس رہا تھا۔ان عورتوں نے نرم میدے کو میدے کی صورت میں دیکھا مگر حضرت عائشہ نے اس میدے کو اس نظر سے دیکھا کہ جس کے حق کی چیز تھی وہ اس کے چلے آپ