خطبات محمود (جلد 1) — Page 391
۳۹۱ قابل سمجھتے ہیں مگر مجھے یہ بہت بڑی مصیبت نظر آتی ہے کیونکہ مجھے سارے عالم اسلامی کے فیصلے کرنے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔فرض کرو میرے پاس دو شخص جھگڑا لے کر آتے ہیں۔ان میں سے ایک کہتا ہے کہ اس شخص نے مجھ سے روپیہ لیا تھا لیکن اب واپس نہیں کرتا۔دوسرا شخص کہتا ہے کہ میں نے اس سے روپیہ لیا ہی نہیں اور ہر ایک ان میں سے ثبوت پیش کرتا ہے۔اب ان دونوں کو معلوم ہے کہ حقیقت کیا ہے۔جو کہتا ہے کہ میں نے اسے روپیہ دیا ہے وہ جانتا ہے کہ اس نے دیا ہے یا نہیں اور جو کہتا ہے کہ میں نے لیا ہی نہیں وہ بھی جانتا ہے کہ اس نے لیا ہے یا نہیں مگر مجھے اس کے متعلق کچھ علم نہیں کہ کون حق پر ہے اور کون ناحق پر گویا دو بیناؤں کی راہ نمائی کے لئے ایک نابینا شخص مقرر کر دیا گیا ہے۔ایسے جھگڑے ہر روز میرے سامنے پیش ہوں گے۔ہو سکتا ہے کہ میں غلط فیصلہ کروں اور ان غلط فیصلوں کی اللہ تعالیٰ کے حضور مجھ سے جواب طلبی ہو۔پس مجھ سے بڑھ کر اور کون قابل رحم ہو گا۔کہ اسی نقطہ نگاہ کے ماتحت حضرت امام ابو حنیفہ نے قاضی کا عہدہ جو حکومت کی طرف سے پیش کیا گیا تھا لینے سے انکار کر دیا۔حکومت ان کے انکار کی وجہ سے سخت ناراض ہوئی حتی کہ ان کو سزا بھی دی گئی انہوں نے کہا کہ اس عہدہ کی ذمہ داریوں کے ادا کرنے کے مجھ میں طاقت نہیں اور میں اپنے آپ کو اس عہد کے قابل نہیں پاتا۔۳۔یہی وہ عہدے ہیں جن کے لئے لوگ بے انتہا کوششیں کرتے ہیں اور وہ لوگ جو دنیوی اعزاز کے خواہاں ہوتے ہیں ایسے عہدوں کو بڑا سمجھتے ہیں اور انہیں حاصل کرنے کے لئے ہر جائز و ناجائز طریق اختیار کرتے ہیں لیکن وہ لوگ جو اس دنیوی زندگی پر اُخروی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں ان کے سپر د جب کوئی اہم کام کیا جائے تو وہ اپنی ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے بجائے خوش ہونے کے گھبرا جاتے ہیں کہ ہم اس کو کما حقہ ادا کر سکیں گے یا نہیں اور ڈرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ کسی کو تاہی کی وجہ سے ہم خدا تعالیٰ کے مجرم ٹھریں۔تو نقطہ نگاہ کے بدلنے سے احساسات کی ماہیت بدل جاتی ہے۔ایسے ہی ایک اور نقطہ نگاہ ہے اور وہ ایک تاریخی واقعہ رسول کریم میں او لیول کے زمانہ کا ہے۔رسول کریم ملی ایم کی وفات کے بعد جب اسلام کو فتوحات حاصل ہوئیں اور غیر ملکوں کا تمدن عرب میں داخل ہونا شروع ہوا اُس وقت عرب میں یا تو ایسی چکیاں تھیں جن کے ذریعہ موٹا آٹا پیسا جاتا تھا یا غریب لوگ پتھروں پر گندم کو کوٹ کر آٹا نکال لیتے تھے۔صحابہ چونکہ کفار کے تختہ مشق بنے ہوئے تھے ، جائدادیں چھوڑ چکے تھے ، گھروں سے بے گھر ہو گئے تھے ان کے پاس بھلا چکیاں کہاں۔