خطبات محمود (جلد 1) — Page 360
۳۶۰ بعض نے چاند دیکھ لیا تھا۔( بعض احباب کے ذکر پر جنہوں نے قادیان میں بھی چاند دیکھ لیا تھا۔حضور نے فرمایا) معلوم ہوتا ہے یہاں بھی بعض لوگوں نے چاند دیکھا ہے مگر وہ وقت پر آگے نہیں آئے اس لئے ان کی شہادت صرف تائیدی رنگ میں پیش کی جا سکتی ہے اگر یقینی شہادت ہو تو اس کا چُھپانا گناہ ہوتا ہے۔تے معلوم ہوتا ہے کچھ نہ کچھ شبہ ان کے دلوں میں ضرور ہو گا کہ شاید ہم نے چاند نہ دیکھا ہو۔بہر حال چونکہ ایسی یقینی شہادتیں آگئیں جو حلف پر مبنی تھیں اس لئے ہماری طرف سے عید کا اعلان کر دیا گیا۔یاد رکھنا چاہئے کہ ایسی عیدوں کے موقع پر رسول کریم کا وہ قول چسپاں نہیں ہوتا کہ جو شخص عید کے دن روزہ رکھتا ہے وہ شیطان ہے۔آج صبح ہی میں نے سنا ایک عورت کہہ رہی تھی کہ جن لوگوں نے آج روزہ رکھا ہوا ہے شیطان ہیں مگر یہ صحیح نہیں۔جب چاند دیکھنے میں اس قسم کا اختلاف واقع ہو جائے تو ہر قوم کا الگ فتویٰ ہوتا ہے بلکہ ہر شہر کا الگ الگ فتویٰ ہوتا ہے۔۳۔فرض کرو باہر کی احمدی جماعتیں آج عید نہیں کرتیں بلکہ انہوں نے روزہ رکھا ہوا ہے تو یہ ہر گز ناجائز نہ ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایک دفعہ ایسے ہی موقع پر اللہ تعالیٰ نے الہام نازل کیا کہ "عید تو ہے چاہے کرو یا نہ کرو۔کہ اس الہام نے صاف بتا دیا کہ اس روز عید تو تھی مگر چونکہ شریعت کا مسئلہ یہ ہے کہ چاند دیکھنے پر عید کی جائے۔اس لئے لوگوں کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ اگر چاہیں تو عید کر لیں اور اگر چاہیں تو نہ کریں۔گویا یہ محض افتاء تھا شریعت کا حکم نہیں تھا اور محض افتاء کے متعلق اختیار ہوتا ہے کہ جس کا دل چاہے اس پر عمل کرے اور جس کا دل چاہے عمل نہ کرے۔گو قومی لحاظ سے جب اکثریت ایک بات کا فیصلہ کر دے یا امام فیصلہ کر دے یا قاضی فیصلہ کر دے تو اس جگہ کے رہنے والوں پر اس فیصلہ کا مانتا واجب ہو جاتا ہے۔کہ پس یہ بات صحیح نہیں کہ جن دوسرے شہروں والوں نے روزہ رکھا ہوا ہے یا قادیان کے جن غیر احمدیوں نے آج روزہ رکھا ہے وہ شیطان ہیں۔ایسے حالات میں اگر بعض لوگ یہ سمجھتے ہوں کہ شہادت ایسی مکمل نہیں کہ اس کی بناء پر روزہ کو ترک کیا جا سکے تو وہ روزہ رکھ سکتے ہیں اسی طرح جو لوگ یہ سمجھتے ہوں کہ شہادت کی بناء پر روزہ کو ترک کیا جا سکتا ہے ان کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ روزہ نہ رکھیں اور عید کریں۔پس جن لوگوں نے آج روزہ رکھا ہوا ہے وہ رسول کریم میں کی اس حدیث کے ماتحت نہیں آسکتے ان کے لئے روزہ رکھنا جائز ہے اور جو عید کر رہے ہیں ان کے لئے بھی جائز ہے مگر ان کے لئے نہیں جن کے لئے جماعتی رنگ میں عید کا