خطبات محمود (جلد 1) — Page 359
۳۵۹ (۳۳) فرموده یکم اکتو بر ۱۹۴۳ء بمقام عید گاہ۔قادیان) پہلے تو میں عید کے بارہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں کیونکہ کل یہاں چاند دیکھنے کی کوئی اطلاع نہ ملی تھی لیکن باوجود اس کے رات کو صبح عید ہونے کا اعلان کر دیا گیا تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ رات کو دو جگہ سے فون آئے کہ وہاں چاند دیکھا گیا ہے۔ایک تو کپور تھلہ سے شیخ محمد احمد صاحب وکیل لے کا فون آیا کہ ان کی لڑکی اور ایک ملازم نے چاند دیکھا ہے۔چونکہ مطلع بالکل صاف تھا اور ایسے موقع پر جب کہ مطلع صاف ہو ایک دو کی گواہی کافی نہیں سمجھی جاسکتی اس لئے میں نے ان کو کہہ دیا کہ یہ دو گواہیاں ایسی نہیں کہ ان کی بناء پر ایسے صاف دن میں عید کے متعلق فیصلہ کیا جا سکے۔ہم روزہ ہی رکھیں گے مگر ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ڈلہوزی سے فون کے ذریعہ معلوم ہوا کہ وہاں احمدیوں اور غیر احمدیوں میں سے متعدد احباب نے چاند دیکھا ہے ہمارے قافلہ کے جو دوست تھے ان میں سے بھی سات کے متعلق کہا گیا کہ انہوں نے چاند دیکھا ہے اس پر میں نے انہیں دوبارہ فون کیا کہ ان کی حلفیہ شہادت لے کر مجھے فون پر اطلاع دی جائے کہ آیا وہ اپنی شہادت پر ایسا یقین رکھتے ہیں کہ اس بارہ میں حلف اٹھا سکیں یا نہیں۔تھوڑی دیر کے بعد مجھے فون آیا کہ جو دوست موجود ہیں ان میں سے چار نے حلفاً کہا ہے کہ انہوں نے چاند دیکھا ہے اور لوگوں نے بھی کثیر تعداد میں چاند دیکھا ہے مگر چونکہ وہ دور دور رہتے ہیں اس لئے ان سے حلف نہیں لی جاسکی۔اس کے بعد لاہور فون سے دریافت کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہاں جالندھر سے رپورٹ آئی ہے کہ شملہ میں لوگوں نے چاند دیکھا ہے اسی طرح معلوم ہوا کہ سولن پہاڑ پر بھی اور بمبئی میں بھی چاند دیکھا گیا ہے۔معلوم ہوتا ہے چاند بہت کم اونچا تھا۔قادیان کے احمدی دوست چونکہ اس وقت دعا میں مشغول تھے اس لئے وہ چاند نہ دیکھ سکے اور باہر بھی تھوڑے تھوڑے غبار کی وجہ سے نظر نہ آیا مگر پہاڑوں پر چونکہ اتفاقا مطلع صاف تھا اس لئے وہاں کے رہنے والوں نے چاند کو دیکھ لیا۔چنانچہ اس بارہ میں جتنی رپورٹیں آئیں ان میں سے اکثر پہاڑی مقامات کی ہی ہیں سوائے کپور تھلہ کے کہ وہاں بھی