خطبات محمود (جلد 1) — Page 352
۳۵۲ پھر واپس آ جاتا ہے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملتا ہے مگر جو شخص جنازہ پڑھنے کے بعد دفنانے تک ساتھ رہتا ہے اسے دو قیراط ثواب ملتا ہے اور قیراط جانتے ہو کتنا ہوتا ہے؟ رسول کریم میں نے فرمایا ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہو گا۔دوسرے صحابی نے جب یہ بات سنی تو بڑی حسرت اور افسوس سے کہا تم نے یہ حدیث ہمیں پہلے کیوں نہ بتائی۔معلوم نہیں ہم آج تک کتنے احد پہاڑ جتنے ثواب حاصل کرنے سے محروم رہ گئے ہیں۔کہ تو جب بھی توفیق ملے اور پہلی صفوں میں جگہ حاصل کرنی چاہئے۔میں نے سنا ہے ان میں سے بعض کا یہ خیال ہے کہ ہم اس حصہ مسجد میں بیٹھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔جس حصہ میں حضرت مسیح موعود علیہ ) الصلوة والسلام نماز پڑھا کرتے تھے مگر اس حصہ میں بھی پہلی صفیں ہیں اور اس حصہ میں بھی آخری صفیں ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک حد تک ایسی تقدیم جائز ہو سکتی ہے گو اس حد تک اس تقدیم پر زور دینا کہ یہ خود ایک مرض بن جائے درست نہیں۔مگر بہر حال اس میں بھی پہلی صفیں ہیں اور انسان کو چاہئے کہ ان پہلی صفوں میں بیٹھے جہاں خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نماز پڑھا کرتے تھے ان پچھلی صفوں میں کیوں بیٹھے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔غرض میں یہ بتا رہا تھا کہ رسول کریم میں ملو یا لیلی نے مساجد میں پوری مساوات قائم کی ہے اور مسلمانوں نے بھی آج تک اس حکم پر نہایت سختی سے عمل کیا ہے گو اور کئی باتوں میں مسلمانوں نے اسلامی احکام کو نظر انداز کر دیا ہے مگر اس حکم کی تعمیل میں انہوں نے آج تک کوئی فرق نہیں کیا اور مسجد میں چھوٹے اور بڑے میں کبھی کوئی امتیاز نہیں کیا جاتا۔گو بعض دفعہ ایسا ہو سکتا ہے کہ کسی مشتبہ یا غیر معروف آدمی کو امام کے پیچھے کھڑا ہونے سے روک دیا جائے۔غیر معروف ممکن ہے مخلص ہی ہو مگر چونکہ اسے لوگ نہیں جانتے اس لئے مشتبہ کے علاوہ غیر معروف شخص کو بھی بعض دفعہ امام کے پیچھے کھڑا ہونے سے روکا جا سکتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایسا ہوا کرتا تھا اور اب بھی ہو سکتا ہے۔مگر یہ امتیاز نہیں بلکہ احتیاط ہے اور ایسے شخص کو بھی پہلی صف میں کھڑا ہونے سے نہیں روکا جا سکتا۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ اسے کسی خاص مقام پر کسی مصلحت کی وجہ سے کھڑا نہ ہونے دیا جائے مگر پہلی سے اسے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں یہ قاعدہ تھا اور اب بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ مخلص اصحاب سے یہ امید کی جاتی ہے کہ صف۔۔