خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 309

٣٠٩ ایسی غلطیوں کی اصلاح کرتا رہے اور جہاں کوئی نقص پیدا ہو اس کو فورا ٹھیک کر دے اسی طرح ہم محفوظ رہ سکتے ہیں ورنہ نہیں۔فرض کرو ہم نماز پڑھتے ہیں اور یہاں تک احتیاط کرتے ہیں کہ پہرہ دار مقرر کرتے ہیں کہ کسی کو پاس نہ آنے دے تا توجہ خراب نہ ہو مگر گھر میں ہی شور ہونے لگے یا ارد گرد کے کسی مکان میں شور ہونے لگے تو اس کا کوئی کیا علاج کر سکتا ہے۔اسی طرح کوئی شخص روزہ رکھتا ہے اس کی طبیعت غصہ والی ہے اس لئے وہ گھر میں بیٹھا رہتا ہے کہ کسی سے کوئی تکرار کا موقع ہی پیدا نہ ہو اور اپنے ملازم کو ہدایت کر دیتا ہے کہ کسی کو پاس نہ آنے دے اور اس طرح اپنے روزہ کی حفاظت کرنا چاہتا ہے لیکن یہ تو بیرونی باتوں کو روکنے کا انتظام ہے۔اگر گھر میں ہی کوئی ایسی بات ہو جائے تو اس کا وہ کیا انتظام کر سکتا ہے۔اس مشکل کا علاج سورۃ فاتحہ میں بتایا گیا ہے اور انسان کو خبر دی گئی ہے کہ کس طرح انسان اس قسم کے فتنوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔فرمایا اِيَّاكَ نَعْبُدُ ايَّاكَ نَسْتَعِينُ - ۱۸ الی ہم تیری ہی عبادت کے لئے کھڑے ہوئے ہیں یہ ارادہ ہے کہ تیرے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے مگریہ ارادہ یکطرفہ ہے ہم اکیلے اسے نباہ نہیں سکتے۔ہمارے کئی قسم کے تعلقات ہیں ، بیوئی ہے بچے ہیں، کسی سے حاکمانہ تعلقات ہیں اور کسی سے ماتھی کے ، کہیں طالب علمی کے ہیں اور کہیں استاد ہونے کے ہزار ہا چیزیں ہیں جو ہماری اس عبادت میں روک بن سکتی ہیں ہم تیری عبادت کرنے تو لگے ہیں لیکن اگر ہمارا افسر حکم دے دے کہ پہلے فلاں کام کرو تو ہم کیا کر سکتے ہیں، کبھی ہم عبادت کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو ماتحت شور مچاتے آ جاتے ہیں کہ فلاں کام میں نقص پیدا ہو گیا ہے اس کی طرف توجہ کریں، کبھی کھڑے ہوتے ہیں تو بیوی شور مچاتی ہے کہ گھر کا انتظام خراب ہو رہا ہے، کبھی ہمسایوں کی طرف سے کوئی ایسی ہی بات پیدا ہو جاتی ہے ، پھر کئی دوست اور کئی دشمن ہیں اور وہ سب اپنی اپنی طرف ہماری توجہ کو کھینچتے ہیں غرض اِيَّاكَ نَعْبُدُ ہم تیری عبادت تو کرتے ہیں مگر ایسی چیزیں جو ہماری توجہ کو کھینچ لیتی ہیں ان سے بچ نہیں سکتے اس لئے چاہتے ہیں کہ ان چیزوں سے محفوظ رہیں اور ہماری عبادت مکمل ہو اور وہ اسی طرح ہو سکتی ہے کہ تیری مدد شامل حال رہے اور جہاں کہیں نقص ہونے لگے وہیں اس کی اصلاح ہو جائے اس کے بغیر ہم نیکی نہیں کر سکتے۔یہی ایک ایسا آٹو میٹک ایڈ جسٹر ہو سکتا ہے جو خود بخود نقص کی اصلاح کرتا رہے۔لیکن یہاں پہنچ کر آپ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے جو تمہید باندھی تھی اس کی رو سے