خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 28

۲۸ چونکہ غم کو پسند کرتے ہیں اس لئے وہ علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں۔مکان میں بیٹھے ہوں گے تو بھی علیحدہ جنگل میں جائیں گے تو بھی علیحدہ غرضیکہ ہر وقت وہ علیحدگی کو ہی پسند کریں گے۔اور اگر کسی کے ہاں میت ہو جائے تو گو لوگ اس کے پاس جمع ہوں گے لیکن وہ یہی کہے گا کہ ہٹ جاؤ مجھے اکیلا رہنے دو اس طرح ہجوم سے میرا دل گھبراتا ہے۔لیکن یہ کبھی نہیں ہو گا کہ کسی کے ہاں لڑکا پیدا ہو اور لوگ اس کے گھر جمع ہوں تو وہ کہے کہ ہٹ جاؤ مجھے اکیلا رہنے دو مجمع کی وجہ سے میرا دل گھبراتا ہے بلکہ وہ تو لوگوں کو خود بلائے گا اور جس قدر زیادہ لوگ جمع ہوں گے اسی قدر وہ زیادہ خوش ہو گا۔اسی طرح جس شخص کی شادی ہو اس کے پاس جب لوگ جمع ہوں گے تو وہ سب سے خوشی کے ساتھ ملے گا لیکن ماتم کے وقت گو لوگ اس کی ہمدردی کیلئے ہی جمع ہونگے تاہم وہ یہی کہے گا کہ سب لوگ میرے ارد گرد سے ہٹ جائیں اور مجھے تنہا رہنے دیں کیونکہ علیحدگی میں اظہارِ غم کا خوب موقع مل جاتا ہے اور انسان اپنے دل کی بھڑاس اچھی طرح نکال لیتا ہے۔تو اظہارِ غم کے لئے علیحدگی پسند کی جاتی ہے اور اظہار خوشی کے لئے اجتماع۔اور اس بات کو خدا تعالیٰ نے انسانی فطرت میں رکھ دیا ہے کہ جب اسے خوشی ہو تو دوسروں سے ملے اور جب ملے تو خوشی حاصل کرے۔گویا خوشی اور اجتماع دونوں لازم و ملزوم ہیں۔اسلام تو عین فطرتِ انسانی کے مطابق مذہب ہے۔اگر تمام دنیا نے عید کا مسئلہ خلاف فطرت بنایا ہو تا تو اسلام یہ رکھتا کہ خوشی کے وقت انسان ایک دو سرے سے علیحدہ ہو جایا کریں، جنگلوں میں الگ الگ پھرا کریں ، کسی جگہ اکٹھے نہ ہوں۔مگر یہ نہیں رکھا بلکہ یہی رکھا ہے کہ عید کے دن ایک مقام کے لوگوں کا جمع ہونا تو الگ رہا ارد گرد کے لوگ بھی ایک جگہ جمع ہوا کریں۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ اجتماع خوشی کا باعث ہوا کرتا ہے۔اگر انسان اپنی زندگی پر خوب غور کرے تو آسانی سے اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ جب وہ ایک اجنبی سے ملتا ہے تو تھوڑی دیر گفتگو کرنے کے بعد اس سے تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔تعلق پیدا ہونے کے بعد اسے ایک قسم کی خوشی حاصل ہوتی ہے۔اسی طرح ریل میں گھر پر مکان پر کسی سے ملاقات ہو جاتی ہے اور انسان اسے اس قابل سمجھتا ہے کہ تعلق اور دوستی پیدا کرے جب دوستی پیدا ہو جاتی ہے تو ایک خاص خوشی حاصل ہوتی ہے۔اس کی کیا وجہ ہے۔یہی کہ ایک اجتماع ہوا ہے۔تو خوشی در حقیقت اجتماع کا نام ہے۔اور چونکہ اجتماع ہی عید کا باعث ہے اس لئے سب سے بڑی اور سب سے عظیم الشان عید وہی ہو سکتی ہے جس میں سب سے بڑا ،