خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 209

۲۰۹ عید ختم ہو پہلی اور تیسری اقسام میں سے کسی ایک میں داخل ہو جاؤ۔اگر تم نے پہلی غلطیوں اور کو تاہیوں کی وجہ سے ابھی تک خدا کو نہیں پایا تو حسرتوں اور ندامتوں سے خدا کو پالو کہ یہ راستہ بھی کوئی تنگ راستہ نہیں بلکہ اس راستہ سے بھی جو خدا کے حضور پہنچتے ہیں وہ اس کے پیارے اور مقربین میں شامل ہو جاتے ہیں۔پھر میں کہتا ہوں جسے خدا عید دے اس کا فرض ہے کہ وہ دوسروں کو بھی عید دے چاہے اسے پہلی قسم کی عید میسر ہو یا تیسری قسم کی درمیانی عید تو خدا کسی کو میسر نہ کرے۔اگر ان دونوں عیدوں میں سے کوئی عید بھی تمہیں میر ہے تو خدا کے وہ بندے جنہیں عیدیں میسر نہیں ان کے لئے بھی عید کی کوشش کرو۔میں نے بتایا ہے کہ عیدیں دو قسم کی ہوتی ہیں ایک ظاہری اور دوسری باطنی۔پس باطنی طور پر جن لوگوں کو اس صداقت کی خبر نہیں جو تمہارے پاس ہے اور وہ جو کچے دین سے ابھی تک ناواقف ہیں جاؤ اور ان کو تبلیغ کے ذریعہ حق و حکمت کی باتیں پہنچاؤ۔تا انہیں بھی عید میتر ہو اور وہ بھی عید سے خوشی حاصل کریں اسی طرح وہ لوگ جو ظاہری طور پر مصائب میں مبتلاء ہیں اور جنہیں سوائے مصیبت اور دکھ کے راحت سے کوئی حصہ نہیں ملا جیسے کشمیر کے مسلمان ہیں یا انفرادی طور پر جیسا کہ ہر شہر میں ہوتے ہیں کوشش کرو کہ ان مظلوموں اور حسرت کے شکاروں کی بھی عید ہو جائے اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن جائیں۔یہ کبھی خیال مت کرو کہ تمہارے قلیل مال کی کوئی قیمت نہیں۔اگر تم اخلاص سے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ایک پیسہ بھی دیتے ہو تو وہ ان سونے کے پہاڑوں سے جو بغیر اخلاص کے دیئے جائیں زیادہ درجہ رکھتا ہے۔میں اللہ تعالٰی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہم پر ایسا فضل نازل کرے تاکہ ہم میں سے ہر شخص کو حقیقی عید میتر ہو اور وہ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم نہ صرف اپنے لئے عید منائیں بلکہ دوسروں کے لئے بھی جو مصائب اور دکھوں میں گرفتار ہیں عید کا سامان کر دیں۔یہاں تک کہ ہمارے کمزور ہاتھوں سے دنیا میں پھر حقیقی عید قائم ہو ، رنج اور حسرت کی گھڑیاں کٹ جائیں، تاریکی کے بادل چھٹ جائیں اور ہدایت کا سورج دنیا کو اپنی نورانی کرنوں سے جگمگا دے اور خدا کی بادشاہت جس طرح آسمان پر ہے زمین پر بھی قائم ہو جائے۔یہ ایک محاورہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح آسمان پر ہر فرشتہ اطاعت کرنے والا ہے اسی طرح زمین پر بھی ہر فرد خدا تعالیٰ کا اطاعت گزار ہو ورنہ یہ مطلب نہیں کہ زمین پر