خطبات محمود (جلد 1) — Page 208
۲۰۸ اسی صبح جب حضرت عائشہ نے جو کی روٹی کھائی ہوگی تو یہ خیال نہیں آیا مگر جب زیادہ آرام کی گھڑی آئی تو اس کے ساتھ ہی زیادہ دکھ کی گھڑی بھی آگئی۔تو یہ محروم انسان جس دن عید آتی ہے اس دن اور زیادہ غمگین ہوتا ہے۔اس دن اس کے دکھ کی کوئی انتہاء نہیں رہتی اور یہ جس قدر لوگوں کو خوشی میں دیکھتا ہے اتنا ہی اس کا غم بڑھ جاتا ہے۔خوشی اس سے عنقا ہوتی ہے، خوشی اور اس میں ایک تاریک پردہ حائل ہوتا ہے مگر کیا تم سمجھتے ہو کہ اس کی ندامت را نگاں جائے گی۔کیا تم سمجھتے ہو کہ اس کی حسرت ضائع ہو جائے گی۔کیا تم خیال کرتے ہو کہ اس کا دکھ بے قیمت ہے اور اس کی پشیمانی خدا کی نگاہ میں حقیر اور ذلیل ہے یا کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ یہ شخص اسی طرح تاریکی میں مرجائے گا؟ یاد رکھو پہلی قسم کے تو وہ لوگ ہیں جو بھاگ کر خدا کے پاس پہنچ گئے اور دوسری قسم کے وہ لوگ ہیں جو بھاگ کر شیطان کے پاس چلے گئے مگر یہ تیسری قسم کے وہ لوگ ہیں کہ جب ندامت محسوس کرتے ہیں، جب پشیمانی ان کی رگ وپے میں سرایت کر جاتی ہے تو خدا بھاگ کر ان کے پاس آتا ہے۔۱۲، اور وہ اپنے بندہ کی حسرت کو رائیگاں جانے نہیں دیتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جس کے پاؤں تھے اور میرا تھا وہ چل کر میرے پاس آگیا اور جس کے پاؤں تھے اور شیطان کا تھا وہ چل کر شیطان کے پاس چلا گیا مگر یہ وہ بندہ ہے جس کے پاؤں نہیں یہ کہیں جانے کی طاقت نہیں رکھتا چلو میں اس کے پاس جاتا ہوں اور اگر یہ گرا ہوا ہے تو میں آپ اس کو اٹھا کر اپنے پاس لے آتا ہوں۔پس اگر تم پہلی قسم میں سے نہیں بن سکتے تو اس قسم میں سے ہی بن جاؤ کہ یہ مقام بھی کوئی تحقیر کا مقام نہیں۔یاد رکھو کہ وہ کامل حسرت وہ کامل عجز وہ کامل انابت وہ کامل غم اور وہ کامل دکھ جو انسان کے ظاہر و باطن پر متولی ہو جاتا ہے وہ بھی انسان کو خدا کا محبوب بنا دیتا ہے۔تم اس دوسری قسم کی عید والوں میں سے مت بنو جن کی عید صرف ان کا کھانا اور پینا ہے بلکہ ان میں سے بنو جو خدا سے جاملے اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو پالیا۔یا ان میں سے بنو جو اگر چہ خدا تک ابھی نہیں پہنچے مگر وہ وہیں گر گئے اور اس ندامت اور پشیمانی کی وجہ سے ان کا دل پانی پانی اور ان کا جگر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور انہوں نے وہیں گرے گرے اپنی جان کو رنج و الم سے ایسا ہلاک کیا کہ ان کی حالتِ زار سے عرش الہی ہل گیا اور عرش کا مالک خود چل کر ان کے پاس آیا اور اس نے انہیں اٹھا کر اپنی محبت کے مقام پر بٹھا لیا۔پس یہ تین قسم کی عیدیں ہیں اور ان تینوں اقسام کے لوگ اس وقت یہاں موجود ہیں مگر پیشتر اس کے کہ