خطبات محمود (جلد 1) — Page 128
۱۳۸ کی طاقتوں سے ملتی ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کی طاقت ہے کہ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ کہ اس کے ماتحت انسان جب کہتا ہے کہ آج میں خوش ہوں گا تو وہ خوش ہو جاتا ہے بغیر کسی سامانِ خوشی کے۔اسی طرح جب وہ کہتا ہے کہ آج میں غمگین ہوں گا تو بغیر کسی غم کی وجہ کے غمگین ہو جاتا ہے۔غرض جیسا وہ ارادہ کرتا ہے اس کے ماتحت ارد گرد کے حالات کو بدل دیتا ہے۔اگر وہ خوش ہونے کا ارادہ کرتا ہے تو جو میں خوشی ہی خوشی اسے نظر آتی ہے۔ایسی حالت میں اگر وہ کوئی جنازہ بھی دیکھتا ہے تو خیال کر لیتا ہے نامعلوم یہ بیچارہ کسی مصیبت میں پھنسا ہوا ہو گا اب اس پر خدا کا فضل ہو گیا کہ دنیا کے مصائب سے چھوٹ گیا اس طرح وہ اس نظارہ پر بھی خوش ہو جاتا ہے۔اسی طرح اگر کسی کو بیمار دیکھتا ہے تو کہتا ہے ممکن ہے اس نے اس سے بھی زیادہ سخت بیمار ہونا تھا کہ خدا نے اس پر فضل کر کے اس بیماری میں مبتلاء کیا یا وہ یہ خیال کر لیتا ہے کہ یہ کوئی ایسی سخت بیماری نہیں ہے اس سے بھی زیادہ خطرناک بیماریوں میں لوگ مبتلاء ہوتے ہیں یا یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس بیمار کا تو علاج کرانے والے موجود ہیں کئی ایسے بھی بیمار ہوتے ہیں جنہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہو تا غرض ایسی صورت میں طبیعت کئی قسم کے بہانے نکال لیتی ہے اور انسان ہر ایک بات پر خوش ہو جاتا ہے۔غرض ارادہ کے ساتھ انسان اپنی کیفیت کو بدل دیتا ہے اور نہ صرف کیفیت کو بدل دیتا ہے بلکہ گردو پیش کے حالات کو بھی بدل دیتا ہے۔وہی حالات جو دوسروں کو خوش کر رہے ہوتے ہیں ، غمگین ہونے کا ارادہ کرنے والے کو غمگین بنا دیتے ہیں اور وہی حالات جو دوسروں کو غمگین کرنے والے ہوتے ہیں خوش ہونے کا ارادہ کرنے والے کو خوش کرنے کا باعث بن جاتے ہیں۔پس ہم کو اس سے جو عظیم الشان سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ ہماری جنت اور ہمارا دوزخ ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔ہم چاہیں تو اپنے لئے جنت بنالیں اور چاہیں تو اپنے لئے دوزخ تجویز کر لیں۔خدا تعالیٰ نے ہمارے دل میں یہ طاقت رکھ دی ہے کہ ہم جب چاہیں دوزخ تیار کر لیں اور جب چاہیں جنت بنا لیں۔یہی وجہ ہے کہ کئی بار قرآن کریم میں یہ بیان ہوا ہے کہ جنت اور دوزخ انسان اپنے اعمال سے تیار کرتا ہے۔ھے جب کہ یہ بات ہمیں دنیا کی ہر چیز میں نظر آتی ہے تو ایک بات یاد رکھنی چاہئے اور وہ یہ کہ اگر ہم کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ہماری کامیابی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہماری ہمتیں بلند ہمارے حوصلے وسیع ، ہمارے ارادے عظیم الشان ہوں کیونکہ کوئی قوم جو عظیم الشان امید نہایت وسیع امنگ اور اپنے آپ ہے