خطبات محمود (جلد 1) — Page 11
بھی کرتا ہے اور جو کچھ بھی وہ اس کے لئے کر سکتا ہے کرتا ہے مگر ایسی خبیث اولاد اس کی ہوتی ہے کہ وہ اس کے لئے انقطاع نسل کا باعث ہو جاتی ہے۔اس کی نسل تو ہوتی ہے لیکن وہ ایسی رم ایسی شرمناک حرکات کرتی ہے کہ اس کا نام لیتے ہوئے بھی اس کو شرم آتی ہے۔معاویه ۳ یزید که کی پیدائش پر کتنا خوش ہوا ہو گا اور اس نے خیال کیا ہو گا کہ یہ بیٹا میرے لئے عزت افزائی کا موجب ہو گا لیکن اسی یزید نے ایسی ایسی خباثتیں کیں کہ اب کوئی آدمی نہیں کہہ سکتا کہ میں معاویہ کی اولاد ہوں ، کیوں؟ کہ اس کے درمیان ایک گندے آدمی کا واسطہ آتا ہے جس کی وجہ سے وہ بدنام ہوتے ہیں۔تو وہی یزید جسے اس نے اپنی نسل بڑھانے والا اور ناموری کا باعث تصور کیا وہ اس کے لئے ہلاکت اور تباہی کا باعث ہو گیا۔تو انسان بڑی خوشیاں کرتا اور اپنے لئے ایک چیز کو مفید خیال کرتا ہے لیکن وہی اس کے لئے تباہی و بربادی کا باعث ہو جاتی ہے۔بدر کے موقع پر کفارِ مکہ جب آئے۔انہوں نے سمجھا کہ بس اب ہم نے مسلمانوں کو مار لیا اور ابو جہل نے کہا ہم عید منائیں گے اور خوب شرابیں اُڑائیں گے۔ھے اور سمجھا کہ بس اب مسلمانوں کو مار کے ہی پیچھے ہٹیں گے۔لیکن اسی ابو جہل کو مدینہ کے دو لڑکوں نے (کفار مکہ مدینہ والوں کو نہایت ذلیل خیال کرتے تھے اور ان کو ارائیں کہا کرتے تھے قتل کر دیا۔اور اسے ایسی حسرت دیکھنی نصیب ہوئی کہ اس کی آخری خواہش بھی پوری نہ ہو سکی۔عرب میں رواج تھا کہ جو سردار ہوتا وہ اگر لڑائی میں مارا جاتا تو اس کی گردن لمبی کر کے کاٹتے تاکہ پہچانا جاوے کہ یہ کوئی سردار تھا) عبداللہ بن مسعود کو نے اسے دیکھا (جب یہ بے حس و حرکت زخمی پڑا تھا اور پوچھا کہ تمہاری کیا حالت ہے۔اس نے کہا مجھے اور تو کوئی افسوس نہیں صرف یہ ہے کہ مجھے مدینہ کے دو ارائیں بچوں نے مار دیا۔عبداللہ نے دریافت کیا کہ تمہاری کوئی خواہش ہے ؟ اس نے کہا اب میری یہ خواہش ہے کہ میری گردن ذرا لمبی کر کے کاٹ دو۔انہوں نے کہا میں تیری یہ خواہش بھی پوری نہ ہونے دوں گا۔اور اس کی گردن کو ٹھوڑی کے پاس سے سختی سے کاٹ دیا ، اور وہ جو عید منانی چاہتا تھا وہی اس کے لئے ماتم ہو گیا اور وہ شراب جو اس نے پی تھی اسے ہضم ہونی بھی نصیب نہ ہوئی۔انسان ایک لطیف سے لطیف غذا کھاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میرے جزو بدن ہو گی لیکن وہ نہیں جانتا کہ یہی غذا اس کے لئے ہیضہ کا باعث ہو جائے گی۔