خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 10

(۳) فرموده ۲۴۔اگست ۱۹۱۴ء به تمام میدان نزد مسجد نور - قادیان) اَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ - اَلْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِيْنُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنُؤْمِنُ بِهِ وَنَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ تُظْلِلُهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ : لاَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ بِعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ قَالَ اتَّقُوا اللَّهَ إِنْ كُنتُم مُّؤْمِنِينَ - قَالُوا نُرِيدُ اَنْ نَّاكُلَ مِنْهَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ أَنْ قَدْ دَقْتَنَا وَنَكُونَ عَلَيْهَا مِنَ الشَّهِدِينَ - قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا اَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيْدًا لَّاوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآيَةً مِّنْكَ وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرَّزِقِيْنَ - قَالَ اللهُ إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ فَمَنْ يَكْفُرُ بَعْدُ مِنْكُمْ فَإِنّى أُعَذِّبُهُ عَذَا ًبا لَا أَعَذِّبُهُ أَحَدًا مِّنَ الْعَلَمِيْنَ - ٣ ہر ایک انسان فطرتاً اپنی بھلائی اور بہتری اور اپنے لئے آرام چاہتا ہے۔کوئی بیوقوف سے ہیو قوف انسان بھی ایسا نہیں ہو گا جو اپنے لئے دُکھ چاہتا ہو لیکن اپنی نادانی کی وجہ سے بعض لوگ ایک مسکھ طلب کرتے ہیں لیکن وہ اس کی وجہ سے دُکھ میں پڑ جاتے ہیں۔۔ایک آدمی اپنے لئے آرام و راحت طلب کرتا ہے وہ الٹا اس کے لئے موجب تکلیف بن جاتا ہے ، وہ انعام طلب کرتا ہے اور وہ اس کے لئے عذاب ہو جاتا ہے وہ ترقی طلب کرتا ہے جو تنزل ہو جاتی ہے اور وہ مفید چیزیں طلب کرتا ہے لیکن وہ اس کے لئے مضر ثابت ہوتی ہیں۔اس طرح کے ہزاروں نظارے دنیا میں نظر آتے ہیں کہ ایک انسان بڑی خوشیوں اور بڑی امیدوں کے ساتھ ایک چیز کو طلب کرتا ہے لیکن وہ اس کے لئے دکھ کا موجب بن جاتی ہے۔ایک انسان کے گھر اولاد نہیں وہ خود دعائیں کرتا ، لوگوں کو دعا کے لئے کہتا اور صدقہ و خیرات