خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 107

کپڑوں سے عید نہیں کیونکہ کپڑے ہندو عیسائی بھی بناتے ہیں۔کھانوں سے عید نہیں کھانے دو سرے بھی کھا سکتے ہیں اور خود مسلمان بھی دوسرے دن پکا سکتے ہیں مگر اس دن چہل پہل ہوتی ہے۔اگر کھانوں کپڑوں ہی سے عید ہو تو ہندوؤں ، عیسائیوں کے لئے بھی ہو سکتی ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے لئے ہے ان کے لئے نہیں۔پس معلوم ہوا کہ عید کپڑوں اور کھانوں سے نہیں بلکہ کپڑے عید کے لئے ہیں اور کھانے عید کے لئے ہیں۔عید کی وجہ سے لوگ ہنستے اور بولتے ہیں۔جس جگہ لاش پڑی ہو وہاں اگر کوئی شخص ہے تو اس سے عید نہیں بن سکتی۔اس دن عمدہ کپڑے میت والے کے گھر میں پہنو یا اچھے کھانے پکا کر بھیج دو تو ان کی عید نہیں ہو جائے گی کیونکہ یہ مسنون طریق ہے کہ جس دن کسی مسلمان کے گھر میں میت ہو جائے تو دوسرے مسلمان ان کے گھر میں کھانا بھیجتے ہیں۔کیونکہ وہ صدمہ کی وجہ سے کھانا نہیں پکا سکتے۔اگر ایسا نہ ہو تو بچے وغیرہ بھوکے رہیں۔پس ایسی حالت میں اس گھر کے لئے عید نہیں۔اگر کھانے پینے سے عید ہوتی تو سب کی ایک عید ہوتی مگر حقیقت یہ ہے کہ سب کی نہیں۔ہم امراء کو دیکھتے ہیں کہ ان کے پاس عموماً اتنے زائد اور اچھے کپڑے ہوتے ہیں کہ وہ عید پر کوئی خاص اہتمام نہیں کرتے۔پس معلوم ہوا کہ عید کے دن خوش ہونے کی وجہ کھانوں اور کپڑوں کے علاوہ کوئی اور چیز ہوتی ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ چونکہ رمضان کے بعد آتی ہے اس لئے ہم خوش ہوتے ہیں کہ روزے ختم ہو گئے اس لئے خوشی ہے۔تو ہم کہتے ہیں کہ کس نے مجبور کیا تھا کہ روزے رکھتے، نہ رکھتے۔خدا کی طرف سے جبر کے سامان نہیں کہ فرشتے پکڑ کر کسی سے کوئی کام کرائیں۔پس عید اس لئے بھی نہیں کہ روزے ختم ہو گئے کیونکہ روزے رکھنے کے لئے کوئی جبر بھی نہ تھا پس اس لئے بھی خوشی نہیں کہ ایک بوجھ اُتر گیا۔ہاں عید کے معنی یہ ہیں کہ ہمارا ایک کام اور فرض تھا ہم نے اس کو پورا کر دیا۔لڑکا امتحان دینے جاتا ہے پاس ہو جاتا ہے خوش ہوتا ہے۔شادی ہوتی ہے تو شادی کی غرض اولاد ہے۔جب اولاد ہو تو انسان خوش ہو تا ہے کیونکہ عورت مرد کے ملنے کا نتیجہ اولاد ہے پس اگر خوشی ہے تو اس لئے کہ کام کر لیا۔ورنہ بہت ہیں جنہوں نے کپڑے نہیں بدلے۔کئی ہیں جنہوں نے کھانے نہیں کھائے۔اگر عید ہے تو اس کی کہ ہم نے اپنے فرض کو ادا کر لیا اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔اگر کہو کہ وہ بھی خوش ہیں جنہوں نے روزے نہیں رکھے۔اس کا جواب یہ ہے کہ ہے کہ