خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 87

کر سکتا ہے وہ ضرور افسردہ ہو گا۔اگر اس افسردگی کو محسوس نہ کرے تو اس کا دل زنگ آلودہ ہو گا۔پس اگر دنیا میں ایک بھی شخص ہو جو ہم سے علیحدہ ہے تو ہم اس کی علیحدگی کی وجہ سے افسوس اور رنج محسوس کریں گے اور ہم کو حقیقی خوشی نہیں ہو سکتی۔ہماری کوئی خوشی مکمل نہیں ہو سکتی۔جب تک ہمارا ایک بھائی بھی امن میں نہ ہو لیکن جب تک تمام بنی نوع انسان امن میں نہ ہوں تو بالکل ہی نہیں ہو سکتی۔ہمارے کتنے بھائی ہیں جو ان سگے بھائیوں سے کہیں زیادہ ہیں جو ہم سے علیحدہ ہیں۔مگر ہم ان کو دیکھتے ہیں کہ وہ رنج اور تکلیف میں ہیں۔کتنے احمدی بچے ہیں جن کے والدین محض ان کی احمدیت کی وجہ سے ان سے ناراض ہیں اور نہ صرف ناراض ہیں بلکہ ان کے دشمن ہیں۔تم خود خیال کرو کہ ان احمدی بچوں کے دل کی آج کیا حالت ہو گی۔ان کے لئے آج خوشی نہیں بلکہ وہ اپنے عزیزوں سے صبح سے طعن سن رہے ہوں گے اور ایسے بُرے سلوک کو برداشت کر رہے ہوں گے جس کو انسان گوارا نہیں کر سکتا آج عید ان کے لئے عید نہیں ہو سکتی۔مثال کے طور پر میں ایک نوجوان کا واقعہ سناتا ہوں جو اس وقت میرے مد نظر ہے سوچو کہ اس کے دل کی کیا حالت ہو گی۔مدراس میں ایک نوجوان کالج کا طالب علم ہندو سے مسلمان ہوا ہے۔اس کے ماں باپ سخت درجے کے متعصب لوگ ہیں۔کچھ عرصہ تک وہ اپنے مذہب کو چھپائے رہا لیکن اس عرصہ میں اس کے والدین کو اس کے متعلق کچھ شکوک پیدا ہونے لگے۔وہ اس کے حالات کی گرید میں لگ گئے۔روز بروز ان کا شک بڑھتا گیا اور وہ اس کو تکلیف دینے لگ گئے۔مجھے ایک اور شخص نے اس کے حالات لکھے کہ اس کے والدین اس کو بہت تکلیف دیتے ہیں۔میں نے اس کے نام ایک خط لکھوایا جو اخبار الفضل ۸ میں بھی شائع ہو چکا ہے کہ بغیر تکلیف اور شدائد کی آگ میں پڑنے کے ایمان مکمل نہیں ہو تا۔اگر ہماری جماعت ان تکالیف میں سے گذر جاتی تو پختہ ہو جاتی۔و نکہ لوگ مِنْ حَيْثُ الجماعت مصیبتوں میں سے نہیں گذرے اس لئے بعض لوگ تھوڑی ی تکلیف پر گھبرا جاتے ہیں اس لئے تم مصائب و شدائد سے گھبراؤ نہیں بلکہ شکر کرو خدا نے تمہارے لئے بہتری کا سامان کیا ہے۔اس کے جواب میں اس نے پچھلے دنوں خط لکھا کہ ابھی آپ کا خط آیا جس سے مجھے خوشی ہوئی۔میں تسلیم کرتا ہوں کہ مصائب میں سے گذرے بغیر کوئی شخص مضبوط نہیں ہوتا اور میں ان مصائب کے برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں۔جس وقت آپ کا خط پہنچا اُس وقت رمضان شروع ہو گیا تھا۔میں نے روزہ شروع کیا تو میرے دن چون