خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 86

AY باپ کے ذریعے سے انسان کو پیدا کرتا یونہی آسمان سے اتار دیتا۔یا وہ ضرور تیں جو انسان کے لاحق حال ہیں وہ اور ذرائع سے پوری ہو جاتیں۔مرد کو عورت کی اور عورت کو مرد کی ضرورت ہے تو بجائے مرد کے لئے عورت پیدا کرنے کے خدا تعالی کوئی ایسا سامان کرتا جو عورت کی ضرورت ہی مرد کو نہ پڑتی لیکن خدا نے ایسا نہیں کیا بلکہ عورت کو پیدا کیا اولاد دی محلہ دار بنائے۔خدا کا یہ عمل بتاتا ہے کہ ہم ایک دوسرے سے آپس میں محبت کریں۔انسان بچوں سے محبت کرتا ہے ، بیوی سے محبت کرتا ہے، رشتہ داروں سے محبت کرتا ہے۔کیوں کرتا ہے۔کیوں خدا نے یوں نہ کیا کہ انسان کا یہ تقاضا بغیر ان کے پورا کیا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔خدا کے فرشتے نہیں اترتے اور اس کے ساتھ جماعت نہیں کراتے۔اس سے پتہ لگتا ہے جس قدر لوگوں کے ہم سے اچھے تعلقات نہ ہوں گے وہ ہم سے نفرت کریں گے اور ہماری عید میں اتنی ہی کمی ہوگی۔خوشی اس وقت ہوتی ہے جب اجتماع ہوا اور مفید ہو۔کوئی نہیں جو اجتماع سے ناراض ہو تا ہو۔کوئی مقرر جب تقریر کرتا ہے اگر اس کی تقریر میں لوگ اٹھ جائیں تو اس کو تکلیف ہو گی اور اگر بڑھ جائیں تو خوشی کا احساس ہو گا۔پس سوائے مراقی کے کوئی نہیں جس کو اجتماع سے خوشی نہ ہوتی ہو۔3 ނ مگر ان سب اجتماعوں سے بڑھ کر وہ اجتماع خوشی کا موجب ہوتا ہے جو خدا کے ذریعہ ہو وہ حقیقی اجتماع ہے اور اس سے جو خوشی ہو وہ حقیقی خوشی ہے۔ماں باپ سے انسان علیحدہ ہو سکتا ہے مگر ایک مومن سے مومن جدا نہیں ہو سکتا۔کیا ایک مومن کا اجتماع آنحضرت میری چھوٹ سکتا ہے۔ممکن ہے بیٹا جنم میں جائے یا باپ۔لیکن ایک مومن کا مومن سے وہ رشتہ ہے جو قیامت کو بھی جدا نہ ہو گا۔کہ پس وہ اجتماع جو خدا کے ذریعہ نہ ہو وہ حقیقی عید نہیں ہو سکتا کیونکہ اس میں جدائی ہوتی ہے لیکن وہ اجتماع جو خدا کے ذریعہ ہو اور وہ وصال جو خدا کے واسطے سے ہو اس میں جُدائی نہیں اس لئے جب تک دنیا میں ایسے لوگ ہیں جن کا تعلق خدا سے نہیں ہم خوش نہیں ہو سکتے اور ہمارے لئے مکمل عید نہیں ہو سکتی۔غور کرد اگر کسی شخص کے دیوار به دیوار کوئی لاش پڑی ہو تو وہ انسان اگر اس کے دل میں ذرا بھی شرافت ہے راحت میں نہیں ہو سکتا۔اسی طرح جب اس کے رشتہ دار اور اس کے اہل شہر اور اہل قوم اہل بلک بلکہ تمام دنیا کے لوگ اس سے جُدا ہیں تو وہ خوشی کیسے ؟