خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 54

۵۴ شمنوں کے نرغے میں گھرا ہوا ہو ، بد بختی اور بد نصیبی کے باعث جس کے گھر میں ہر وقت جنگ و جدل، لڑائی جھگڑا رہتا ہو اور افلاس اور تنگی اسے سر نہ اٹھانے دیتی ہو ایسے شخص کی خوشی اور عید جس کے اندرونی حالات ایسے ہوں صرف ظاہری عمدہ لباس سے پوری نہیں ہو سکتی۔نہ اس کا ہنسنا اور لوگوں میں بیٹھ کر خوشی کا اظہار کرنا اس کی دلی خوشی کا ثبوت دے سکتے ہیں بلکہ یہ تو ایک منافقانہ حالت ہے کہ اندر کچھ اور ظاہر کچھ۔اور ایک عذاب ہے کہ دل تو اندر سے افکار و عموم سے کباب ہو رہا ہے مگر یہ اس کا اظہار بھی نہیں کر سکتا۔غرض عیدین مسلمانوں کے واسطے ایک عبرت کا مقام ہیں۔یا مصیبت اور دکھ کے کم کرنے کے لئے وقفے ہیں حقیقی عیدیں نہیں۔ایک کھلونا ہیں جو روتے بچے کے ہاتھ میں دے دیا جاتا ہے وہ اس کی بھوک و پیاس کو نہیں مٹا سکتا۔صرف اس کی توجہ کو تھوڑی سی دیر کے واسطے دوسری طرف لگا کر اس کی تکلیف میں وقفہ کا کام دے سکتا ہے۔یہی حال مسلمانوں کی موجودہ حالت میں ان کی عیدوں کا ہے۔عارضی خوشی عارضی ہنسی کا موقع ان کو مل جاتا ہے اور صرف غم غلط کرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔ورنہ اس ذلت و رسوائی، ادبار و تباہی کے ہوتے ہوئے حقیقی خوشی کے معنی ہی کیا ہوئے جب دن رات باہم دنگا و فساد چھڑا رہتا ہے۔تو ایسی صورت میں حقیقی عید کیا ہوئی؟ پس مسلمان حقیقی عید اور اصلی خوشی اسی وقت حاصل کر سکتے ہیں جب موجودہ عید سے عبرت حاصل کر کے کھوئی ہوئی دولت و عزت آبرو و ثروت، جاہ و جلال، تقوی و طهارت نیکی و عبادت، رتبہ و مرتبت کی تلاش اور اس کے حاصل کرنے کی سر توڑ کوشش کر کے ان گم شدہ چیزوں کو حاصل کر لیں گے اور جس طرح ایک وقت تھا کہ دنیا میں اسلام ہی اسلام تھا اسی طرح اب بھی اسلام روحانی طور پر دنیا پر غالب ہو۔اور جب مسلمان دلائل اور براہین، علم اور عمل سے یہ ثابت کر دیں کہ کسی شخص کی گردن اسلام کے دلائل کے سامنے اونچی نہیں رہ سکتی اور کوئی باطل اس حق کے مقابلہ کی تاب نہیں لا سکتا اُسی وقت اور صرف اسی وقت مسلمان حقیقی خوشی اور عید منانے کے قابل ہوں گے اور وہی کچی عید اور اصل خوشی کا دن ہو گا۔اس واسطے میں اپنی جماعت کو خاص طور پر تاکید کرتا ہوں۔اور زور سے توجہ دلاتا ہوں کہ آپ لوگوں کے لئے ایک بہت بڑی عید مخفی ہے اور وہ یہی ہے کہ دنیا کے تمام لوگ آپ