خطبات محمود (جلد 1) — Page 485
۴۸۵ وہی بات کہی جا رہی ہے اور اخبارات میں بھی اس کے متعلق لکھا جاتا ہے۔پس اپنے اندر نیک عزائم پیدا کرو اور پھر دعائیں کرو کہ اللہ تعالی مسلمانوں کو پکا مسلمان بنائے اور ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہمارا اٹھنا بیٹھنا، سونا اور جاگنا بلکہ ہماری زندگی اور ہماری موت اسلام کے لئے ہو ۱۸ اور ہم محمد رسول اللہ م ل ل ا و ریمیک کی عزت کے لئے صرف نعرے نہ لگا ئیں بلکہ حقیقی قربانی کریں جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اکلوتے بیٹے کو خدا تعالی کی راہ میں قربان کر دیا تھا اُسی طرح خدا تعالٰی ہمیں توفیق دے کہ ہم بھی اپنے بیٹوں اور اپنی جانوں کو اس کی راہ میں قربان کر دیا کریں۔جس دن ہم میں یہ جذبہ پیدا ہو جائے گا ہماری ترقی کو نہ امریکہ روک سکتا ہے نہ انگلستان روک سکتا ہے نہ کوئی اور ملک روک سکتا ہے پھر ہماری عید ہی عید ہوگی اور خوشی کے دن کے سوا اور دن ہمارے لئے نہیں ہو گا۔اب میں دعا کروں گا دوست بھی دعا کریں نہ صرف اپنے لئے بلکہ ساری جماعت کے لئے۔ہمارا سب سے پہلا فرض یہ ہے کہ ہم اپنی اصلاح کریں۔پھر ہمارا فرض ہے کہ جماعت کی اصلاح کریں۔پھر ہمارا فرض ہے کہ پاکستان کے مسلمانوں کی اصلاح کریں اور پھر ہمارا فرض ہے کہ ہم پاکستان کے باہر کے مسلمانوں کی اصلاح کریں اور پھر ساری دنیا کی اصلاح کریں مگر ایک انسان کی اصلاح بھی کسی انسان کی طاقت میں نہیں ہے۔اس کا علاج یہی ہے کہ ہم اپنے خدا کے حضور گڑگڑائیں اور اس سے دعائیں کریں کہ الٹی ! دل تیرے قبضہ میں ہیں تو ہی لوگوں کے دلوں کی اصلاح فرما اور انہیں اسلام کی طرف کھینچ۔میں جب انگلستان اپنے علاج کے لئے گیا 19 تو عید کی تقریب پر ڈسمنڈ شا ۲۰ بھی آیا۔جب میں واپس گھر کی طرف آیا اور اندر داخل ہونے لگا تو مجھے اپنے پیچھے کی طرف سے آہٹ آئی۔میں نے مڑ کر دیکھا تو ڈسمنڈ شا آ رہا تھا۔میں نے کہا تم تو رخصت ہو گئے تھے۔کہنے لگا میرے دل میں ایک سوال پیدا ہوا تھا میں نے چاہا کہ آپ سے پوچھ لوں۔میں نے کہا پوچھو کیا ہے سوال ہے۔کہنے لگا جب میں یہ تقریر کرتا ہوں کہ محمد رسول اللہ لیا اور سب سے بڑے آمن۔پسند نبی ہیں تو مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ میری زبان سے خدا بول رہا ہے مگر لوگوں پر اثر نہیں ہوتا۔میں نے کہا ڈسمنڈ شا! خدا جب بولتا ہے تو دل میں بولتا ہے اور تم لوگوں کے کان میں بولتے ہو۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک کان سے سن کر دو سرے کان سے نکال دیتے ہیں۔جس دن خدا لوگوں کے دلوں میں بھی بولا ان پر بھی اثر ہو جائے گا۔وہ ہنس پڑا اور کہنے لگا