خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 462

م چھٹی ہے کوئی کام نہ کرو تو خدا تعالٰی بھی ہمارے ساتھ انگریزوں کا سا سلوک کرے گا۔جتنا ہم کمائیں گے وہ اتنا ہی ہمیں دے گا زیادہ نہیں لیکن اگر ہم صحابہ والے کام کریں گے اپنے آرام کا خیال نہیں کریں گے اور دن رات سلسلہ کی خدمت میں لگے رہیں گے تو خدا تعالیٰ کے گا ان لوگوں کا کھانا پینا ہمارے ذمہ ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ ہم ان لوگوں کے لئے زمین سے بھی رزق نکالتے ہیں اور آسمان سے بھی رزق نازل کرتے ہیں۔کہ صرف اخلاص کی ضرورت ہوتی ہے۔مجھے نظر آ رہا ہے کہ کل پرسوں اتر سوں اور اس کے بعد کی حالت آج سے زیادہ بد تر ہوگی اگر آپ لوگ سمجھ جائیں گے تو حالت بہتر ہو جائے گی ورنہ اور بھی خراب ہوگی۔میں ناظروں کو بار بار توجہ دلاتا رہا ہوں کہ قیمتوں کے گرنے سے ہماری آمد میں فرق پڑا جائے گا۔ہماری جماعت کے چندہ دینے والوں میں سے اسی فیصد زمیندار ہیں اور یہ صاف ظاہر ہے کہ جب چالیس روپے فی من کپاس کے گی تو زمینداروں کا چندہ اور ہو گا اور جب کپاس کی قیمت آٹھ دس پر آجائے گی تو ان کا چندہ اور ہو گا۔ہمارا چندہ چھ سات لاکھ سے یک دم گیارہ لاکھ تک پہنچ گیا تھا اس کی وجہ یہی تھی کہ چندہ دینے والوں کی آمد نہیں بڑھ گئی تھیں پھر قیمتیں بڑھ جانے کی وجہ سے گورنمنٹ نے بھی تنخواہوں کے ساتھ مہنگائی الاؤنس بڑھا دیئے تھے اس لئے آمد بڑھ گئی اب اگر قیمتیں گریں گی تو ہماری آمد بھی گرے گی لیکن ہمارے خرچ میں کوئی بچت نہیں زیادہ سے زیادہ ہم مہنگائی الاؤنس کائیں گے سو وہ پہلے ہی قریبا نہ ہونے کے برابر ہے۔ہمارا خرچ پچاس ہزار روپیہ ماہوار کے قریب ہے۔اگر چندہ گرا اور ہم نے مہنگائی الاؤنس کاٹ بھی دیا تو تین چار ہزار روپیہ ماہوار کی کمی ہو جائے گی لیکن اگر بجٹ میں ساڑھے چار لاکھ کی کمی آگئی تو نہیں سو روپے میں سے صرف ساٹھ روپے ملیں گے۔میں کئی سال سے توجہ دلا رہا تھا کہ ہمارا بجٹ زیادہ ہو رہا ہے۔شوریٰ میں ہم نے بجٹ کو گرایا ہے تیرہ لاکھ روپیہ کا بجٹ پیش ہوا تھا اور ہم نے کاٹ کر اسے ساڑھے دس لاکھ روپیہ کر دیا۔محکموں کی طرف سے رقعہ بازی ہو رہی تھی کہ ہمارا بجٹ ٹھیک تھا فانینانس کمیٹی والوں نے کم کر دیا ہے لیکن باوجود اس کے کہ فائینانس کمیٹی نے اور پھر میں نے بجٹ کم کر دیا تھا آپ لوگوں کو عید سے قبل تنخواہیں نہیں مل سکیں۔پس ہمارے حالات ایسے ہیں کہ جب تک ہم سر جوڑ کر کام نہ کریں ہم ان سے نجات حاصل نہیں کر سکتے۔سکول کی عمارت ہے ہیڈ ماسٹر صاحب کہتے تھے ہمیں سکول بنا دیں کچی عمارت ہی بنا دیں میں اس کی منظوری لے دوں گا۔ہیڈ ماسٹر صاحب بیمار