خطبات محمود (جلد 1) — Page 436
اسم سلام اسلام میں داخل نہ ہو جائے اور جو لوگ یہ کام نہیں کر سکتے وہ مالی قربانیاں کریں اور اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم راتوں کو Wilcox کی طرح رو تو چھوڑا کریں کہ اے اللہ ! میں کمزور ہوں نہ تیری راہ میں تکلیف اٹھا سکتا ہوں اور نہ مالی قربانیاں پیش کر سکتا ہوں۔مجھ میں تو طاقت نہیں تجھ میں سب طاقتیں پائی جاتی ہیں تو ہی اسلام کو فتح دے ، تو ہی اسلام کو وہ غلبہ عطا کر جو اسے پہلے حاصل تھا۔اگر وہ خدا تعالیٰ کے آستانہ پر گر کر چند آنسو بھی نہیں بہا سکتے تو ان کی عید بالکل بے معنی عید ہے۔در حقیقت آج کل کی عید ایک تازیانہ بن کر آتی ہے اور ہم سے کہتی ہے بولو تم کس چیز کی بناء پر عید منا رہے ہو۔ہم ایک طرف اس بات کے دعویدار ہیں کہ رسول کریم ا ا ا ا ا ا ا و ر ہمارے سردار ہیں اور دوسری طرف ہم آپ کی سرداری کو چھنتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ہر جگہ آپ کا دین مظلوم ہے مگر بے فکر بیٹھے ہوتے ہیں۔پھر ہم کس چیز کی عید منا رہے ہیں۔یہ ایک سوال ہے جو ہم میں سے ہر ایک کو اپنے نفس سے پوچھنا چاہئے۔اگر واقعہ میں ہم میں جانی اور مالی قربانی کی روح پائی جاتی ہے، اگر ہم خدا تعالیٰ کے سامنے رو رو کر اس کی مدد طلب کرتے ہیں تو واقعی ہماری عید عید ہے اور ہم اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ملی لیلی کے سامنے آنکھ اُٹھانے کے قابل ہیں، ورنہ ہماری عید کچھ بھی نہیں بلکہ ہر عید ہمیں پہلے بھی زیادہ مُردہ بنا دے گی۔ل سنن ابی داؤر باب اذا وافق يوم الجمعة يوم عيد الفجر :۲۸-۳۱ ه۔الفضل ۸ - اپریل ۶۵۹) نیند اس کی ہے، دماغ اس کا ہے راتیں اس کی ہیں تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں (دیوان غالب صفحه ۱۰۰ مطبوعہ مکتبہ جدید لاہور ۱۹۷۰ء) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی زیر ادارت انجمن تشحیذ الاذہان کی طرف سے شائع کیا جانے والا سہ ماہی مجلہ۔اجراء کیم مارچ ۱۹۰۶ ء۔مارچ ۱۹۲۲ء میں ریویو آف ریلیجنز اردو میں مدغم کر دیا گیا۔- تذکره مطبوعہ الشركة الاسلامیہ صفحہ ۷۴۲ صحیح مسلم باب فضائل ابی بکر صحیح بخاری کتاب الهجرة باب هجرة النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه الى المدينة - صحیح بخاری کتاب التفسير باب