خطبات محمود (جلد 1) — Page 428
۴۲۸ چوہیں پچیس آدمی بیٹھ سکتے ہیں۔اتنی بڑی جگہ میں بھلا جھانکنا کونسا مشکل تھا۔رسول کریم م اور حضرت ابو بکر اس غار کے ایک طرف بیٹھے ہوئے تھے۔غار کے منہ پر آکر کھوجیوں نے کہا کہ اگر محمد مللی زمین پر موجود ہے تو پھر اسی غار میں ہے۔حضرت ابو بکر اُس وقت گھبرا گئے اور آپ نے خیال کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو دشمن آپ کو دیکھ لے اور دکھ پہنچائے اور آپ کا رنگ فق ہو گیا۔جب رسول کریم میں لیلی نے یہ کیفیت دیکھی تو آپ نے فرمایا۔لا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا ابو بکر ! تم گھبراتے کیوں ہو خدا تعالی ہمارے ساتھ ہے۔وہ ایسے موقع پر آپ کا یہ یقین اور وثوق اس بات کا ثبوت تھا کہ خدا تعالیٰ آپ کے ساتھ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ۱۹۰۲ء میں مخالفین کی طرف سے ایک کیس چلایا گیا کہ اور جس مجسٹریٹ کے سامنے یہ کیس پیش تھا وہ آریہ تھا۔اسے لاہور سے بلا کر آریہ لیڈروں نے قتسم دلائی کہ اس مقدمہ میں مرزا صاحب سے پنڈت لیکھرام کا بدلہ ضرور لینا ہے اور اس نے اپنے لیڈروں کے سامنے ایسا کرنے کا وعدہ کر لیا۔خواجہ کمال الدین صاحب ۸ کو رپورٹ پہنچی کہ اس اس طرح مجسٹریٹ کو لاہو ر بلا کر قسم کھلائی گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مقدمہ کے سلسلہ میں گورداسپور تشریف رکھتے تھے۔خواجہ کمال الدین صاحب نے آپ سے کہا کہ کسی نہ کسی طرح اس مقدمہ میں صلح کرلی جائے کیونکہ یہ پکی بات ہے کہ مجسٹریٹ کو لاہو ر بلا کر اس سے یہ وعدہ لیا گیا ہے کہ وہ ضرور سزا دے اور اس نے سزا دینے کا وعدہ کر لیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لیٹے ہوئے تھے۔خواجہ کمال الدین صاحب کی یہ عادت تھی کہ وہ بات لمبی کرتے تھے۔انہوں نے کہا حضور مجسٹریٹ ضرور قید کر دے گا اور سزا دے دے گا بہتر ہے کہ فریق ثانی سے صلح کر لی جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کہنیوں پر سہارا لے کر بیٹھ گئے اور فرمایا۔خواجہ صاحب! خدا تعالیٰ کے شیر پر ہاتھ ڈالنا کوئی آسان بات ہے۔میں خدا تعالیٰ کا شیر ہوں وہ مجھے پر ہاتھ ڈال کر تو دیکھے وہ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔رو مجسٹریٹوں میں سے جو اس مقدمہ کا فیصلہ کرنے کے لئے مقرر تھے ایک کالڑ کا پاگل ہو گیا۔اس کی بیوی نے اسے لکھا ( وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ کا مامور تو نہیں مانتی تھی) کہ تم نے ایک مسلمان فقیر کی ہتک کی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ایک لڑکا پاگل ہو گیا ہے اب دوسرے کے لئے ہوشیار ہو جاؤ۔وہ تعلیم یافتہ تھا اور ایسی باتوں پر یقین نہیں رکھتا تھا اس نے اس طرف کوئی توجہ نہ کی۔نتیجہ یہ ہوا کہ اس کا دوسرا لڑکا دریا میں ڈوب کر مر گیا۔وہ