خطبات محمود (جلد 1) — Page 347
نچانے والا بھی جب بندر نچاتا ہے تو لوگ اس کے ارد گرد جمع ہو جاتے ہیں مگر اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ بند ر نچانے والے کا یا اکٹھے ہونے والے لوگوں کا مذہب اور عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ اس موقع پر انہیں اکٹھے ہو جانا چاہئے۔اسی طرح لوگ تھیٹروں میں جمع ہو جاتے ہیں مگر اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ جو لاہور کے ساکن ہیں یا امر تعرکے کے ساکن ہیں یا راولپنڈی کے ساکن ہیں یا سیالکوٹ کے ساکن ہیں ان سب کا عقیدہ ہے کہ ہر روز رات کے نو بجے تھیئیٹر دیکھنے کے لئے جمع ہو جانا چاہئے۔یہاں عقیدے کا کوئی سوال نہیں بلکہ ایک تماشہ دیکھنا ان کے مد نظر ہوتا ہے اور اسی غرض کے لئے وہ جمع ہوتے ہیں۔پس دسہرے وغیرہ پر جو اجتماع ہوتا ہے اس سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ وہ کوئی قومی یا مذہبی اجتماع ہوتا ہے بلکہ وہ انفرادی اجتماع ہوتا ہے اور ہر شخص اپنی طبیعت اپنے شوق اپنے رجحان طبع اور اپنی اغراض کے مطابق آجاتا ہے خدا نے یہ حکم نہیں دیا ہو تاکہ وہاں سب لوگ جمع ہو جائیں۔یا مثلا دیوالی ہوتی ہے جس کے آنے پر گھروں اور بازاروں میں دیئے جلائے جاتے ہیں یہ بھی ایسی ہی چیز ہے۔میں ایک دفعہ دیوالی کے موقع پر لاہور میں تھا اور میں نے دیکھا کہ لوگوں کے اژدھام کی وجہ سے راستے میں چلنا مشکل ہو گیا مگر پھر بھی جو لوگ اس دن جمع ہوتے ہیں وہ ایک تماشہ کے طور پر جمع ہوتے ہیں اس لئے جمع نہیں ہوتے کہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ جاؤ اور انار کلی میں جمع ہو جاؤ۔یا جاؤ اور شہر کے کسی اور بازار میں جمع ہو جاؤ بلکہ جمع ہونا ان کی اپنی مرضی پر منحصر ہوتا ہے۔جس کا دل چاہتا ہے چلا جاتا ہے اور جس کا دل نہیں چاہتا نہیں جاتا۔لیکن ہم لوگ جو اس جگہ پر جمع ہوتے ہیں محض خدا تعالیٰ کے حکم اور اس کے ارشاد کے ماتحت جمع ہوتے ہیں۔پس اس لحاظ سے صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے لوگوں کو ایک خاص جگہ جمع ہونے کا حکم دیا ہے اور اسی کا نام اس نے عید رکھا ہے۔چنانچہ رسول کریم میں اللہ فرماتے ہیں جمعہ ہمارے لئے عید ہے ، اور عید کا نام تو عید ہے ہی گویا اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے قوم کے جمع ہونے کا نام عید رکھا ہے۔بظاہر یہ ایک معمولی بات معلوم ہوتی ہے لیکن در حقیقت اس میں ایک بہت بڑا نکتہ پوشیدہ ہے۔لوگ آج کل جتھوں پر اور قوموں پر اور حکومتوں کے اجتماع پر بڑا زور دیتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اس اجتماع کے ساتھ ان کے مذہب کا کس حد تک تعلق ہے۔اس نقطہ نگاہ کے ساتھ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ان کا مذہب انہیں یہ تعلیم نہیں دیتا کہ ساری قوم ایک خاص دن ایک