خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 338

1 ٣٣٨ اخبارات والے کوئی مضمون شائع کر دیتے ہیں اور ان کے پچاس ساٹھ پر چے زیادہ بک جاتے ہیں مگر دوسرے دن کوئی جانتا بھی نہیں کہ کیا ہوا تھا۔اور ایک سال کے بعد تو تمام واقعات لوگوں کے ذہن سے اُتر جاتے ہیں مگر اس کے مقابلہ میں تم دیکھو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بچے کو مارا نہیں بلکہ اسے مارنے کے لئے صرف اپنی چھری اٹھائی تھی مگر اس چھری اٹھانے کو خدا نے اتنی اہمیت دی اتنی اہمیت دی کہ قوموں کی قومیں ملکوں کے ملک اور نسلوں کی نسلیں اس واقعہ کو یاد کر کے خوشی مناتی ہیں۔ہندوستان میں بھی خوشی منائی جاتی ہے ، عرب میں بھی خوشی منائی جاتی ہے، ایران میں بھی خوشی منائی جاتی ہے ، چین میں بھی خوشی منائی جاتی ہے، سماٹرا میں بھی خوشی منائی جاتی ہے ، جاوا میں بھی خوشی منائی جاتی ہے، سنگا پور میں بھی خوشی منائی جاتی ہے ، ملایا میں بھی خوشی منائی جاتی ہے، امریکہ کے مختلف علاقوں میں بھی خوشی منائی جاتی ہے۔غرض کس کس ملک کا نام لیا جائے کوئی بھی ایسا علاقہ نہیں جہاں مسلمان ہوں اور یہ عید منائی جاتی ہو حالانکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بچہ کو ذبح نہیں کیا تھا بلکہ ذبح کرنے کے ارادہ سے انہوں نے صرف چھری اٹھائی تھی۔اب دیکھو کجا تو یہ حالت ہے کہ ساٹھ لاکھ آدمی ایک جنگ میں مارا جاتا ہے مگر میں سال تک قومیں اور حکومتیں مل کر بھی اس کی یاد گار کو قائم نہیں رکھ سکتیں اور کجا یہ حالت کہ ابراہیم جو سو دو سو بکریوں اور تمہیں چالیس گائیوں کا مالک تھا وہ خدا کے حکم کے ماتحت اپنے بچہ کو ذبح کرنے کے لئے صرف چھری اٹھاتا ہے اور خدا اس کی یاد گار کو دنیا میں ہمیشہ کے لئے قائم کر دیتا ہے اور آج تک وہ دنیا کے ہر حصہ میں بڑی شان و شوکت کے ساتھ منائی جاتی ہے۔یہ تو وہ عید ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی سے تعلق رکھتی ہے مگر روزوں کی عید رسول کریم ماله الا اللہ کی عید ہے کیونکہ اس عید کا کسی پہلے زمانہ میں پتہ نہیں لگتا۔رسول کریم سے ہی یہ عید جاری ہوئی ۱۸ مگر دیکھ لو اس دن بھی مسلمان کتنی خوشیاں مناتے ہیں حتی کہ وہ لوگ بھی خوشیاں مناتے ہیں جن کی حالت پر رونا آتا ہے۔چنانچہ کئی لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جو مہینہ بھر فاقہ کرتے ہیں اور عید کے دن پیٹ بھر کر کھانا کھاتے ہیں مگر کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو رمضان میں بھی فاقہ کرتے ہیں اور عید کو بھی فاقہ سے رہتے ہیں لیکن پھر بھی عید کے دن ان کے چہروں سے خوشی اس طرح پھوٹ پھوٹ کر ظاہر ہو رہی ہوتی ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ بڑے بڑے موٹے دُنبوں کی چربی کا پلاؤ کھا کر وہ باہر آئے ہیں۔