خطبات محمود (جلد 1) — Page 337
قصاب کہنے لگا ذرا احتیاط سے کھڑے ہوں ایسا نہ ہو کہ کوئی چھین کر لے جائے کیونکہ آپ کے ایک دو دنبے بہت اچھے ہیں۔میں نے تو اسے ہنسی ہی سمجھا مگر اس نے چھری پھیر کر ابھی اٹھائی بھی نہ تھی کہ میں نے دیکھا دُنبہ گھٹتا ہوا جا رہا ہے اور دیکھتے دیکھتے آنکھوں سے غائب ہو گیا۔پس بے شک ایسا بھی ہوتا ہے مگر بدوی آکر گوشت لے جاتے ہیں مگر وہ بھی ایسا دُنبہ لے جاتے ہیں جو چنندہ ہو ورنہ وہاں استا دنبہ ذبح ہوتا ہے کہ جیسے بوجھ اٹھا کر پھینک دیا جاتا ہے اسی طرح لوگ دنبوں کو ذبح کر کے اور گڑھوں میں دبا کر چلے آتے ہیں۔موجد تو یہ دن ساری دنیا میں نہایت اہتمام سے منایا جاتا ہے اور لوگ اس قدر جوش سے قربانی کرتے ہیں کہ ہندو مسلم فساد اس عید کا نشان مقرر ہو گیا ہے۔گویا صرف بکرے اور دُنبے وغیرہ ہی ذبح نہیں ہوتے بلکہ کچھ ہندوؤں اور مسلمانوں کا خون بھی اس دن گرایا جاتا ہے۔یہ جوش لوگوں کی طبائع میں آخر کیوں پایا جاتا ہے۔اللہ ہی ہے جس نے طبائع میں یہ جوش پیدا کیا ہے ورنہ کجا حضرت ابراہیم علیہ السلام کا زمانہ جو آج سے چار ہزار سال پہلے آئے ، اور جن سے ساری دنیا کا نہ کوئی قومی تعلق تھا نہ مذہبی نہ نسلی اور نہ سیاسی۔پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کوئی بڑے بادشاہ نہیں تھے اور نہ کوئی بڑے عالم۔(عالم سے میری مراد دنیوی علوم جاننے والے کی ہے۔جیسے سیاستدان یا ریاضی دان) پھر نہ وہ کوئی مشہور طبیب تھے نہ فلسفی تھے نہ تھے نہ سیاستدان تھے نہ انہوں نے ریاضی کی کوئی دریافت کی تھی اور نہ جغرافیہ یا علم ہیئت وغیرہ میں کمال حاصل کیا تھا صرف انہوں نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تھا۔حالا نکہ یہ بات ایسی ہے جو ہندوستان میں آج کل بھی پائی جاتی ہے اور سینکڑوں بچے دیویوں پر قربان کر دیئے جاتے ہیں۔کئی ظالم لوگ اپنی مالی تکالیف دور کرنے کے لئے اپنے یا کسی اور کے بچے کو لکشمی دیوی کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔اسی طرح بعض لوگ مصائب سے نجات حاصل کرنے کے لئے کالی دیوی کے سامنے اپنے یا کسی اور کے بچہ کو ذبح کر دیتے ہیں کہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ان کی مصیبتیں دور ہو جائیں گی اور ان کے دل اتنے سخت ہوتے ہیں کہ اس کا ان کی طبیعت پر کچھ بھی اثر نہیں ہوتا۔سینکڑوں واقعات اس قسم کے ہوتے رہتے ہیں اور سینکڑوں بچے کالی دیوی یا لکشمی دیوی پر قربان کر دیئے جاتے ہیں مگر ان قربانی کرنے والوں کو کوئی جانتا بھی نہیں۔زیادہ سے زیادہ ان کو اگر کوئی جانتا ہے تو پولیس والے جو مجرموں کو ہتھکڑی لگا لیتے ہیں۔پھر ان پر مقدمہ چلتا ہے اور آخر انہیں سزا ہو جاتی ہے۔اس پر بعض