خطبات محمود (جلد 1) — Page 290
محبت کا اظہار کرے گا اور واقعہ میں ایسا ہی ہوتا ہے۔کبھی کسی بندہ نے خدا کی راہ میں اخلاص اور تقویٰ کے ساتھ کوئی قربانی نہیں کی کہ اس سے ہزاروں گئے بڑھ کر اس کے رب نے اس کے ساتھ حسن سلوک نہیں کیا۔کہ خدا تعالیٰ کی غیرت کا نمونہ تم اس میں دیکھ سکتے ہو کہ ابراہیم علیہ السلام کے وفات پا جانے کے قریباً تین ہزار سال بعد جب کہ دنیا کا اکثر حصہ ان کے نام کو بھی بھول گیا تھا اور خود ان کی اپنی اولادیں ان کے کام کو فراموش کر چکی تھیں جب ابرہہ والٹی یمن نے اس مقام کو گرانے کا ارادہ کیا ھے جس مقام کو ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا۔تو خدا تعالیٰ کی غیرت اس طرح بھڑ کی کہ ابرہہ کے لشکر میں شدید طور پر چیچک کی وباء پھیل گئی اور چند ہی دن میں اس کا لشکر تباہ و برباد ہو گیا اور جو بچے وہ ناکام و نامراد ہو کر اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔جب ابرہہ کے لشکر نے مکہ پر چڑھائی کی تو خود حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ابرہہ کے لشکر سے ڈر کر اس امانت کو چھوڑ کر بھاگ گئی جو ابراہیم نے ان کے سپرد کی تھی۔اور انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ جب تک ابرہہ کا لشکر واپس نہیں جائے گا وہ مکہ کے گرد کی پہاڑیوں کے میں چھپے بیٹھے رہیں گے اور مکہ میں داخل نہیں ہونگے۔تاکہ ابرہہ کا لشکر انہیں نقصان نہ پہنچائے۔مگر جب ابراہیم علیہ السلام کی اولاد اپنے دادا کی امانت کو چھوڑ کر مکہ سے بھاگ رہی که زمین و آسمان کا مالک خدائے قہار عرش عظیم پر سے سات آسمانوں کو طے کرتا ہوا زمین پر اتر رہا تھا تا کہ وہ اس نشان کی حفاظت کرے جو ابراہیم علیہ السلام نے قریبا تین ہزار سال پہلے دنیا میں قائم کیا تھا اور وہ نہیں ہٹا جب تک اس نے اس نشان کی حفاظت کے سامان نہیں کر لئے اور اس دشمن کو تباہ و برباد نہیں کر دیا جو ابراہیمی نشان کو مٹانے کے لئے آیا تھا۔^ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہمیں اسی قسم کی غیرت کی طرف توجہ دلاتا ہے۔جب وہ فرماتا ہے کہ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيْمَ مُصَلَّى 3 اے انسانو! تم اسی طرح اخلاص کا تعلق میرے ساتھ پیدا کرو جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے میرے ساتھ تعلق پیدا کیا تھا تو پھر دیکھو کہ کیا میں اسی طرح تمہارے ساتھ معاملہ نہیں کرتا جس طرح میں نے ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ معاملہ کیا ہے۔کئی ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے ابراہیم" کے ساتھ معاملہ کو دیکھ کر رشک کرتے ہوں گے کہ کاش! خدا تعالٰی ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ کرتا لیکن وہ کبھی یہ خیال نہیں کرتے کہ ہم نے بھی تو خدا سے وہ معاملہ نہیں کیا جو ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب سے کیا تھا۔ابراہیم تو ہر مصیبت کے بعد اپنے اوپر خدا کا ایک احسان خیال کرتا تھا اور تکالیف اور مصائب کے بعد