خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 259

۲۵۹ برکات و فیوض سے اسے حصہ ملا اس نے یہ سمجھنا شروع کر دیا کہ اب مجھے ان عبادتوں کی کوئی ضرورت نہیں رہی میں مادر پدر آزاد ہو گیا۔مجھے نہ نماز کی ضرورت ہے نہ روزہ کی ضرورت ہے نہ زکوۃ کی ضرورت ہے، نہ حج کی ضرورت ہے نہ نظام سلسلہ کی پابندی کی ضرورت ہے نہ فرمانبرداری اور اطاعت کی ضرورت ہے اب خدا تعالیٰ سے براہ راست میرا اتصال ہو گیا۔اس احمق کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے گورنر جب بادشاہ سے ملنے کے لئے جاتا ہے تو بعض دفعہ بادشاہ اس گورنر کے چپڑاسی سے بھی ہنس کر بات کر لیتا ہے۔اس پر اگر وہ چپڑاسی نوکری چھوڑ دے اور یہ سمجھنے لگ جائے کہ اب میں اتنا بڑا ہو گیا ہوں کہ بادشاہ مجھ سے براہ راست گفتگو کر سکتا ہے تو وہ نادان ہے۔وہ نہیں سمجھتا کہ جس وقت گور نر چلا جائے گا اور وہ وہیں رہے گا تو اسے کان پکڑ کر باہر نکال دیا جائے گا اور جس دن وہ گورنر کی نوکری سے الگ ہو جائے گا کوئی اسے اپنے دروازہ میں بھی گھنے نہیں دے گا۔در حقیقت کسی وقت چپڑاسی سے بادشاہ کا کلام کرنا چپڑاسی سے کلام کرنا نہیں بلکہ گورنر سے کلام کرنا ہے اور اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے ہمارے پاس جب کوئی دوست ملنے آتا ہے اور اس کے ساتھ کوئی چھوٹا بچہ ہوتا ہے تو ہم اس چھوٹے بچے کو بھی پیار کر دیتے ہیں۔اب اس بچہ سے پیار کرنا دراصل اس دوست سے اپنی محبت کا اظہار کرنا ہے ورنہ بچے سے ہمیں کونسی محبت ہو سکتی ہے۔وہ تو جب بڑا ہو گا تب معلوم ہو گا کہ وہ ہم سے دوستی رکھتا ہے یا دشمنی لیکن اب جو ہم اسے پیار کرتے ہیں تو دراصل اپنے دوست کے لئے۔اور چونکہ ہمارے دوست کے اعمال ظاہر تھے اور ہم جانتے تھے کہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے اس لئے ہم نے اس کے بچہ سے بھی پیار کر دیا۔پس کئی لوگ اس بیوقوفی کی وجہ سے کہ ان پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فیض نازل ہو چکا ہے سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ اب ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ ہمیں کسی خدمت کی ضرورت نہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مارے جاتے ہیں اور تباہ ہو جاتے ہیں۔وہ ایک عارضی عید کو مستقل عید سمجھ لیتے ہیں اور اس طرح روحانی لحاظ سے ہلاک ہو جاتے ہیں حالانکہ مستقل عید مرنے کے بعد کی عید ہے یا اس شخص کے لئے مستقل عید ہے جو اپنی زندگی میں ہی مر گیا مگر عمل ایسے شخص سے بھی معاف نہیں ہوتے۔دوسری بیوقوفی یہ ہوتی ہے کہ لوگ عمل کو سزا سمجھتے ہیں حالانکہ اگر عمل کرنا سزا ہے تو پھر غذا بھی سزا ہے کیونکہ آخر روٹی کھانا بھی ایک عمل ہے، پانی پینا بھی ایک عمل ہے اور کپڑا پہننا بھی ایک عمل ہے مگر جسمانیات