خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 222

۔تمہارے قول کے مقابلہ میں اپنے حواس کو غلطی پر تسلیم کر سکتا ہوں لیکن اس بات کو ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں مان سکتا کہ کوئی شخص سچے دل سے حضرت مسیح موعود پر ایمان لایا اور اسے خدا نہیں ملا۔میں تمہارے قول کو اپنے حواس پر ترجیح دے سکتا ہوں مگر خدا کے قول پر ترجیح نہیں دے سکتا۔اور خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ جو سچا ایمان لائے اسے میں ضرور مل جاتا ہوں ۳۶ ایک نہ ایک ساعت کے لئے اللہ تعالیٰ اسے ضرور مل جاتا ہے پھر انسان تعلق چھوڑتا ہے تو اس کا اپنا قصور ہے۔پس تمہیں خدا مل چکا کوشش کرو کہ اب ہاتھ سے نہ جائے کھویا نہ الجائے بلکہ زیادہ ملے پس دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ کا جلال زیادہ سے زیادہ تمہارے دلوں پر نازل ہو تمہارے دلوں میں اس کی محبت زیادہ سے زیادہ قائم ہو اور اس کا نور آگے سے بڑھ کر تم پر جلوہ فگن ہو۔تمہارے آگے پیچھے، دائیں بائیں اوپر نیچے ہر طرف اس کا نور ہی نور ہو وہ نور تمہارے دلوں میں داخل ہو جائے اور تم نور ہی نور بن جاؤ۔بندہ کیا ہے وہ کوئی مستقل چیز نہیں اگر اسے ایک علیحدہ مستقل چیز مانا جائے تو یہ شرک ہو گا انسان محض تمثل ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں اور جب وہ کوئی مستقل چیز نہیں بلکہ محض تمثل ہے۔۷ سلے تو اس کے سرا سر نور بن جانے میں کیا روک ہو سکتی ہے۔آرید اسی لئے گمراہ ہو گئے کہ انہوں نے بندہ کو ایک مستقل چیز قرار دے لیا اور پھر یہ سوال ان کے دلوں میں پیدا ہونے لگے کہ اگر انسان مادہ کے ذرات کا مجموعہ ہے تو نور نہیں ہو سکتا اور اگر نور ہے تو ذرات کا مجموعہ نہیں ہو سکتا۔۳۸ یہ مت سمجھو کہ ترقیات کے دروازے محدود ہیں وہ غیر محدود ہیں۔ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص نامکمل بینائی کی وجہ سے ٹھو کر کھا جائے۔مگر جوں جوں بینائی اور معرفت زیادہ ہو گی اسے معلوم ہو جائے گا کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں غلط نہیں ہے۔ناممکن کوئی چیز نہیں سب کچھ ممکن ہے جو خدا نے ممکن بنایا ہے۔ہر نیکی کی کے جڑھ محبت ہے۔جب تم اس رستہ پر چل پڑو گے تو سب کمزوریاں دور ہو جائیں گی اس وقت تمہاری مثال اس کپڑے کی سی ہو گی جو دھوبی کے ہاتھ میں چلا جائے۔کپڑے پر دھبہ کی فکر اسی وقت تک ہمیں ہو سکتی ہے جب تک وہ ہمارے گھر میں ہو مگر جب دھوبی اسے صابن لگا کر پتھر پر مارنا شروع کر دے تو دھبہ قائم نہیں رہ سکتا۔اصل چیز خدا تعالیٰ کی محبت ہے جب وہ پیدا ہو جائے تو سمجھ لو کہ میلا کپڑا دھوبی کے ہاتھ چلا گیا وہ ضرور صاف ہو گا اس لئے محبت الہی حاصل کرنے کی فکر کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک شعر میں جس کا ایک مصرعہ الہامی ہے فرماتے ہیں۔