خطبات محمود (جلد 1) — Page 216
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس وعدہ کی تکمیل ہے جو ان سے تمہیں راتوں کا کیا گیا تھا مگر چالیس میں پورا کیا گیا ۱۴ لیکن محمد مصطفی میں یا ای میل کے لئے تھیں دن میں ہی مکمل کیا گیا۔گویا حضرت موسیٰ کو چالیس دن کے بعد خدا ملا لیکن رسول کریم ملی و لی لی لی اور آپ کی امت کو تمہیں دنوں میں۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو طور پر جانا پڑا۔مگر ہمارے گھروں میں خدا آیا ھا، اور بعض دفعہ تو تمیں سے بھی ایک کم کر کے ۲۹ میں مل جاتا ہے یہ وہی ثَلْثِيْنَ لَيْلَةَ ہیں جن کا ذکر قرآن و مجید میں ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں یہ وعدہ پوری طرح پورا نہیں ہوا کیونکہ آپ کی امت نے غداری کی اور کہہ دیا کہ جاتو اور تیرا رب لڑتے پھرو ۱۶ رو ۱۶۔لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں نے کہا جب ہم نے آپ کو رسول مان لیا تو باقی کیا رہ گیا۔اگر آپ سمندر میں بھی گھوڑے ڈالنے کو کہیں گے تو ہم کبھی منہ نہ موڑیں گے۔سکا، غرض خدا تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کیا کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی موسیٰ ہے۔۱۸ مگر بنی اسرائیل کے موسیٰ کے ساتھ نہیں بلکہ بنی اسماعیل کے موسیٰ کے ساتھ یہ وعدہ پورا ہوا۔پس بندے اور خدا کے درمیان ۳۰ دن تک یہ گفتگو جاری رہتی ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اچھا میں تیرا ہو گیا اب تو میری نعمتیں کھا سکتا ہے۔آج عید کے دن کھانا کھانا حرام نہیں بلکہ نہ کھانا حرام ہے کیونکہ آج میرا تیرا دوستانہ ہو گیا ہے میری چیزیں اب تیری ہیں۔اگر آج تو نہ کھائے گا تو میں ناراض ہوں گا۔یہی تعلق جب بڑھتا ہے اور انسان ترقی کرتا ہے تو ایسے مقام پر کھڑا ہو جاتا ہے کہ بسا اوقات اسے اللہ تعالیٰ الفاظ میں کہتا ہے کہ کھا۔رسول کریم میں ایم کی امت میں سے سید عبد القادر جیلانی اس مقام کے خاص مظہر تھے ویسے بھی ان کو باقی صلحاء پر یہ فضیلت ہے کہ اللہ تعالٰی نے مسیح موعود علیہ السلام کو جو بلحاظ مدارج کئی نبیوں سے بھی افضل ہیں اور صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب ہو کر ایسے مقام پر پہنچے کہ نبیوں کو بھی اس مقام پر رشک ہے عبد القادر کا نام دیا گیا۔19 سید عبد القادر اس مقام کے خاص مظہر تھے وہ کہتے ہیں خدا تعالیٰ مجھے کہتا ہے عبد القادر تجھے میری ہی قسم۔کھا۔تب میں کھاتا ہوں۔خدا تعالیٰ کہتا ہے عبد القادر تجھے میری ہی قسم یہ کپڑا پہن ، تب میں پہنتا ہوں۔۲۰، تو بسا اوقات ایک بندہ ایسے مقام پر جا پہنچتا ہے کہ اللہ تعالی اس طرح اس سے معاملہ کرتا ہے تب اگر وہ نہ کھائے اور نہ پہنے تو گنہگار بنتا ہے۔ایسے انسان کی گویا ہر حرکت خواہ وہ دنیوی ہی کیوں نہ ہو خدا تعالیٰ دین بنا دیتا ہے۔اس کا کھانا پینا اور پہننا بھی اس کے لئے ثواب کا موجب ہو جاتا ہے وہ چونکہ خدا تعالیٰ کے