خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 177

166 بہت گئے اور جاکر تلوار لے آئے اور مسلمان سے کہنے لگے تم نے رسول کریم میل کا فیصلہ نہیں مانا اب میں تلوار سے تمہارا فیصلہ کرتا ہوں۔کہ تو دینی معاملہ میں انہیں غصہ آجاتا تھا مگر بہ کم۔جاہلیت کے زمانہ میں ان کی حالت بالکل اور تھی۔تو بعض کو غصہ آجاتا ہے مگر اسے روک لینا نیکی کا کام ہوتا ہے۔بعض حدیثوں میں آتا ہے اور بعض نے اسے آثار قرار دیا ہے کہ طبیعت نہیں بدلتی اگر تمہیں کوئی یہ خبر دے کہ احد پہاڑ اپنی جگہ سے مل گیا ہے تو اسے مان لو لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ کسی کی طبیعت بدل گئی ہے تو نہ مانو ها، جب طبیعت کا بدلنا اتنا مشکل کام ہے تو جو شخص غصیلی طبیعت رکھتا ہو وہ اگر اسے بدل دیتا ہے اور اپنے جوش کو دبا لیتا ہے تو اس کے لئے یہ نیکی ہے اور یہ اس کے لئے نماز کی عبادت کی طرح ہے۔اسی طرح جب کوئی لغو باتیں نہیں سنتا اور جو لوگ ایسی باتیں کرتے ہوں انہیں روک دیتا ہے۔مچغلی اور بد گوئی نہ خود کرتا ہے اور نہ کسی سے سنتا ہے تو اس کی مثال روزہ دار کی سی ہوتی ہے۔غرض یہ دو عبادتیں ہمارے لئے سبق رکھتی ہیں۔ہر مومن کو خیال کرنا چاہئے کہ کیا ان سے اسے یہ سبق حاصل ہوتا ہے جب وہ نماز پڑھتا ہے تو کیا اندر کے گند اور عیب چھپانے کی کوشش کرتا ہے اور جب روزہ رکھتا ہے تو باہر کے گند اندر داخل ہونے سے روکتا ہے۔اگر وہ اندر سے گند باہر نہیں نکالتا تو صحیح معنوں میں نماز پڑھتا ہے اسی طرح اگر باہر کے گندوں کو اندر داخل ہونے سے روکتا ہے تو صحیح معنوں میں روزہ دار کہلا سکتا ہے لیکن اگر یہ نہیں تو وہ سمجھ لے کہ وہ بھوکا پیاسا رہا ہے نہ کہ اس نے روزے رکھے ہیں۔مومن کو ہر پہلو پر غور کرنا چاہئے۔اس کی نماز اور روزے دکھاوے کے طور پر نہیں ہونے چاہئیں۔خدا تعالیٰ کو کیا ضرورت ہے کہ کسی کو بھوکا پیاسا رکھے ، جب کہ اس نے انسان کو کھانے پینے والا بنایا ہے صرف سبق دینے کے لئے اس سے روزے رکھواتا ہے۔اسی طرح ہمارے وضو کرنے سے اسے کیا فائدہ ہے انسان کی روحانی اصلاح اور ترقی کے لئے اس نے یہ حکم دیئے ہیں۔اگر ہم ان باتوں کا خیال نہیں رکھتے جو نماز اور روزہ کو باطل کر دیتی ہیں تو روحانیت حاصل نہیں کر سکتے۔ہماری جماعت کو خدا تعالیٰ نے نمونہ کے طور پر کھڑا کیا ہے اس لئے ہمیں ہر بات سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔لکھا ہے ایک ولی اللہ کا جاتے جاتے ایک جگہ گھوڑا اڑ گیا۔کسی نے گھوڑے کو بُرا بھلا کہنا شروع کیا تو انہوں نے روک دیا کہ اس طرح نہ کہو۔اور کیا معلوم ہوتا ہے مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے اور میں نے اپنے مالک کی کوئی نا فرمانی