خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 77

LL وعدوں پر یقین کامل نہ رکھتے تو ہم بھی اس وقت یقینا پاگلوں کی سی حرکتیں کرتے۔ہمیں بہت صدمہ ہے اور اتنا صدمہ ہے کہ اس کے اثر سے ہم بھی پاگل ہو جاتے مگر ہمیں چونکہ خدا کی نصرت پر بھروسہ ہے کہ ایسی حالتوں میں اس کی خاص نصرت آیا کرتی ہے اور جب ہر طرف سے مایوسی ہو جاتی ہے تب وہ اپنی قدرت کے ہاتھ دکھاتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ خدا کی نصرت آئے گی اور اسلام کی مخالفتوں کو مسل ڈالے گی اس لئے باوجود اس قدر سخت صدمہ کے ہم راحت میں ہیں اور آنے والی گھڑی کے سچے وعدوں سے مطمئن ہیں اور یہی مومن کی علام ہے کیونکہ مومن کو کوئی غم اور حزن پریشان نہیں کر سکتا۔مت میں نے جو کہا ہے کہ مومن کو غم نہیں ہوتا اس کے یہ معنی نہیں کہ مومن کو غم کا احساس بھی نہیں ہو تا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن غم میں بھی ایک عید ہی دیکھا کرتا ہے۔اسلام کی موجودہ حالت کا ہمیں صدمہ ہے اور ہمارے صدمہ کے مقابلہ میں دوسروں کو ہزارواں حصہ بھی صدمہ نہیں مگر ہمارے اور ان کے صدمہ میں ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ ہمیں خدا پر یقین ہے کہ خدا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ ہم خدا کی حفاظت کے حصار میں ہیں۔ہماری اور ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسا کہ بید کی ایک پتلی چھڑی کو دیوار کے ساتھ کھڑا کر دیا جائے۔اس پر اگر زیادہ بوجھ بھی ڈالا جائے گا تو بھی وہ نہیں ٹوٹے گی۔لیکن اگر موٹا تا ہو اور بغیر سہارے کھڑا ہو تو اس پر جب بید کی چھڑی سے تھوڑا بوجھ پڑے گا تو وہ ضرور ٹوٹ جائے گا۔پس وہ بظاہر ہم سے مضبوط ہیں مگر اس نے کی مانند جس کا کوئی سہارا نہیں اور ہم کمزور ہیں مگر ہماری حفاظت خدا کی نفرتوں اور تائیدوں کی دیواریں کر رہی ہیں۔میں احساس اور بے حسی کو مثال کے ذریعہ سمجھاتا ہوں۔جنہوں نے حضرت صاحب کو دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ حضرت صاحب کو مبارک احمد للہ سے کس قدر محبت تھی۔اس محبت کی کئی وجہیں تھیں۔اول یہ کہ وہ کمزور تھا اور کچھ نہ کچھ بیمار رہتا تھا اس لئے اس کی طرف خاص توجہ رکھتے تھے اور یہ لازمی بات ہے کہ جس کی طرف خاص توجہ ہو اس سے محبت ہو جاتی ہے۔دو سرے وہ اگر چہ ہم سب سے چھوٹا تھا اور اس کی عمر بھی بہت تھوڑی تھی مگر بہت ذہین اور ذکی تھا۔اس کی عمر سات سال کی تھی مگر وہ اسی عمر میں شعر کہ لیتا تھا اور عام طور پر اس کے شعر کا وزن درست ہو تا تھا۔اس کی ذہانت اور حافظہ کی مثال یہ ہے کہ جب حضرت صاحب نے وہ بڑی نظم جس کی ردیف ” یہی ہے" لکھی۔صلہ تو ہم سب کو فرمایا کہ تم قافیہ تلاش کرو۔" 6